Hawaon Ka Rukh
جان رینے شارٹ1951 میں سکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے، اعلیٰ تعلیم برطانیہ کی معروف جامعات سے حاصل کی اور بعد ازاں امریکہ میں تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے جغرافیہ کو اپنی علمی زندگی کا مرکز بنایا۔ شہریات، عالمی سیاست اور انسانی جغرافیہ پر ان کی تحقیق نے انہیں اس میدان میں ایک معتبر نام بنا دیا ہے۔ جغرافیہ کے موضوع پر انہوں نے متعدد کتب تحریر کیں، جن میں Understanding Cultural and Human Geography خاص طور پر نمایاں ہے۔
اس کتاب میں وہ نہایت دلچسپ اور سادہ انداز میں یہ واضح کرتے ہیں کہ کس طرح جغرافیہ، ماحول اور قدرتی عوامل انسانی تاریخ کے بڑے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہی پس منظر ہمیں اس سوال تک لے جاتا ہے کہ آخر 1492 میں کولمبس ہی کیوں نئی دنیا امریکہ تک پہنچا۔ ہندوستان یا چین جیسی عظیم تہذیبیں جو اس وقت علم، معیشت اور ثقافت میں دنیا سے کہیں آگے تھیں اس کارنامے کی طرف نہ بڑھ سکیں؟ مصنف اس سوال کا جواب ایک حیران کن مگر حقیقت سے بھرپور جملے میں دیتا ہے "ہواؤں کا رخ"۔
یہ جواب بظاہر سادہ ہے مگر اس کے اندر تاریخ، جغرافیہ اور تقدیر کی ایک پوری داستان چھپی ہوئی ہے۔ بحرِ اوقیانوس میں چلنے والی ہوائیں دراصل ایک قدرتی نظام کے تحت یورپ سے مغرب کی سمت چلتی ہیں جو بادبانی جہازوں کو دھکیلتے ہوئے امریکہ کے ساحلوں تک بآسانی لے جاتی ہیں۔ پھر یہی ہوائیں شمال مشرق کا رُخ اختیار کرکے واپسی کا راستہ بھی فراہم کرتی ہیں۔ یوں ایک قدرتی دائرہ یا لوپ بن جاتا ہے جو صدیوں تک یورپی مہمات کے لیے شاہراہ بنا رہا۔ یہی وجہ تھی کہ کولمبس کے لیے........
