Salam Ya Abu Ayub Ansari
سلام یا حضرت ابو ایوب انصاری
میں اور میرا دوست عبدالرزاق شام ڈھلے ایوب سلطان پہنچے۔ یہاں ترکی میں حضرت ایوب انصاری ایوپ سلطان کے نام سے مشہور ہیں۔۔ ٹرام سے اتر کے دائیں طرف دیکھیں تو کیبل کار (Eyüp–Pierre Loti Teleferik Line) نظر آتی ہے جو پہاڑی کے ساتھ ساتھ اوپر بلند مقام پہ پیرا لوٹی کی چوٹی پہ چڑھتی ہے جہاں سے باسفورس اور پار سامنے صدیوں پرانا آباد استنبول کا خوبصورت نظارہ ہے۔ اس پہاڑی کے ساتھ ساتھ چلتے ہم نے مزار شریف پہنچنا تھا۔ ڈھلوان پہاڑی پہ سینکڑوں قبریں نظر آتی ہیں۔ یہ دراصل ایوپ سلطان قبرستان کا حصہ ہے، جس کی بنیاد عثمانی دور میں 15ویں صدی کے وسط میں پڑی، جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کرنے کے بعد اس علاقے کو روحانی مرکز کے طور پر آباد کیا۔ اس کے بعد یہاں دفن ہونا ایک اعزاز سمجھا جانے لگا اور صدیوں کے دوران یہ پہاڑی بتدریج قبروں سے بھر گئی۔
کیبل کار 2005 میں عوام کے لیے کھولی گئی، تاکہ زائرین اور سیاح آسانی سے اس تاریخی پہاڑی تک پہنچ سکیں۔ اس سے پہلے لوگ یا تو پیدل اس قبرستان کے بیچ سے گزرتے ہوئے اوپر جاتے تھے یا سڑک کے ذریعے۔
پہاڑی کے ساتھ ساتھ چلتے ہم بالآخر دربار شریف کے مرکزی محرابی دروازے پہ پہنچے جس کے سامنے وسیع احاطہ ہے اور پار سامنے جدید طرز پہ بنی دوکانیں۔ پہاڑی کے ساتھ مسلسل ایک رو میں درجنوں چھوٹی دوکانیں ہیں جہاں بتاشے، جلیبیاں اور پھولوں کی بجائے سووینئر ملتے ہیں۔
آج خنک موسم اور بارش کی وجہ سے زائرین کی تعداد نسبتاً کم تھی۔ صحابی رسول ﷺ کے مرقد منورہ کے اردگرد........
