menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Azad Aurat

19 0
23.06.2026

دنیا میں ہر کرنے کے کام کا ایک طریقہ، سلیقہ اور تہذیب ہوتی ہے یعنی Manner-ism۔

بلکل اسی طرح خاتم الانبیاء اور رحمۃ للعالمین محمد ﷺ اور ان کے اصحابؓ کی زندگی، کردار اور عمل کے history اور chronicles کو پڑھنے اور اس پر research کرنے کا ایک Manner-ism ہے، جس کے بغیر understanding اور learning ہو نہیں سکتا ہے۔

یہ سارا knowledge اس وقت تک ایک Science of People's Ancestory and Heritage، جس کو عربی میں علم اسماء الرجال کہا جاتا ہے اور یہ علم عرب کے صحرا اور بیابان سے پرورش پائی ہے، جہاں جانورں اور درختوں تک کے مکمل انساب (Ancestory) کا Record برقرار رکھا گیا۔

پھر عرب کے معزز ترین قبیلہ قریش میں آخری دین ابراھیم (Abrahamic Religion) اسلام کو نازل کیا گیا، تب اس Science میں انتہائی غیر معمولی دیانت اور احتیاط کا Essence شامل ہواکہ جس نے مستند ترین (Most Authenticated) تاریخ، سنہ 350 ھجری تک کا اس دور تک پہنچائی ہے۔

سنہ 350 ھجری کے بعد اس معیار (Standard) میں تنزلی (Decline) شروع ہوا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہے۔

ایک بات اور سیکھ لینی چاہیے، کہ اگر کسی بھی Event یا Occasion کا ذکر ہوگا، تب وہاں خاتم النبیین کے ساتھ ساتھ ابوبکرؓ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ، یا دونوں میں سے کسی ایک کا Presence لازمی ہوگا۔ کیونکہ یہ تین لوگ ہمیشہ اور اکثر ساتھ ساتھ رہے ہیں، ان کا ذکر ایک دوسرے کے بغیر ادھورا ہی رہ جاتا ہے۔

دوسرے درجے (Level) پر، کہ اگر کسی بھی Event........

© Daily Urdu