Sood
قرآن مجید میں سود کے لئے الربٰو کا لفظ استعمال ہوا ہے ربٰو رب و سے لیا گیا ہے جس کے معنی زیادتی اور اضافہ کے ہیں اصطلاح میں اہل عرب اس کو زائد رقم لینے کے لئے استعمال کر تے تھے جو ایک قرض خواہ اپنے قرضدار سے ایک طے شدہ شرح کے حساب سے اصل کے علاوہ وصول کرتا تھا اس کو ہماری زبان میں سود کہتے ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید نے مطلق ہر زیادتی کو حرام نہیں کہا زیادتی تو تجارت میں بھی ہوتی ہے قرآن مجید ایک خاص قسم کی زیادتی کو حرام قراردیتا جسے سود۔ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور اسے چھوڑ دینے کا حکم دیا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں سود در سود لینے کا کام چلتا تھا جو کہ اب بھی بینک والے سود در سودلیتے ہیں یعنی ایک سال کا سود اگر دس فیصد ہوا تو دوسرے سال ایک سو دس پر دس فیصد سود لیا جاتا ہے۔
سود کے اخلاقی اور تمدنی اور معاشی اثرات۔
1: اخلاق پر اثرات: اگر اخلاقی و روحانی حیثیت سے دیکھا جائے تو یہ بات بلکل واضح ہے کہ سود دراصل زر پرستی، خود غرضی، مفت خوری، سنگدلی اور بخل جیسی صفات کا نتیجہ ہے اور وہ ان ہی صفات کی وجہ سے انسان کے اندر نشوونما پاتے ہیں۔ سرمایہ دار جو دولت کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں ان کا ذہن ان ہی صفات سے اپنے آپ کو سجا لیتا ہے۔ سرمایہ دار اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے سوتے جاگتے ہر وقت اس پر سود یا بیاج ہی سوار رہتا ہے اپنی خود غرضی کے جنون میں وہ کچھ پرواہ نہیں کرتا کہ اس کی سود کی خواری سے کس کس طرح انسانی محبت اخوت اور ہمدردی کی جڑیں کٹ رہیں ہیں، جماعتی فلاح و بہبود کا نظام ختم ہو رہا ہے اور کتنے لوگوں کی بدحالی سے وہ اپنی تجوریوں کو بھر رہا ہے یہ اس کی دیوانگی کا حال اس دنیا میں ہے۔ چونکہ آخرت میں انسان اس حالت میں اٹھایا جائے گا جس حالت میں اس نے دینا میں جان دی ہوگی۔ اس لئے سود خور آدمی قیامت کے روز ایک باؤلے، مخبوط الحواس انسان کی صورت میں اٹھے گا۔
اشاد ربانی ہے: جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن اس شخص........
