menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Muhkamat o Mutshabhat

23 0
05.07.2026

قرآن مجید کی آیت میں محکمات و متشابہات کا ذکر آیا ہے اس کا ترجمہ اس طرح ہے۔۔ وہی خدا ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں ایک محکمات ہیں جو کتاب کی اصل ہیں اور دوسری متشابہات ہیں۔ جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا لیکن جو علم میں راسخ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہے اور صرف عقلمند ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں (آل عمران 07)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ محکم اور متشابہ ایک دوسرے کی ضد ہیں اسی طرح علم میں پختہ کار لوگ (الراسخون فی العلم) ان لوگوں کے مقابلے میں ہیں جن کے دلوں میں کجی پائی جاتی ہے۔ اب ہم محکمات اور متشابہات کی الگ الگ تعریف کرکے ان کا باہمی فرق واضح کرتے ہیں۔

محکمات: محکم پکی اور سخت چیز کو کہتے ہیں۔ آیات محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن کی زبان بالکل صاف اور واضح ہے جن کا مفہوم متعین کرنے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے جن کے الفاظ اپنے معنی و مدعا کا صاف اور واضح پتہ دیتے ہیں جن کی تاویل کرنے کا موقع مشکل ہی سے کسی کو مل سکتا ہے۔ چونکہ محکمات اپنا مطلب بیان کرنے میں واضح ہوتیں ہیں اس لئے ان میں حجت وبحث کی حاجت نہیں ہوتی۔ یہ آیات کتاب کی اصل بنیاد ہیں یعنی قرآن جس غرض کیلئے نازل کی گیا ہے اس غرض کو یہی آیات پورا کرتیں ہیں ان ہی میں اسلام کی طرف دنیا کو دعوت دی گئی ہے۔ ان ہی میں عبرت اور نصیحت کی باتیں فرمائیں گئیں ہیں ان ہی میں دین کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ ان ہی میں عقائد، عبادات، اخلاق، فرائض اور امرو نہی کے احکام ارشاد ہوئے ہیں۔ پس جو شخص حق کا طالب ہو اور یہ جاننے کے لئے قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہو کہ وہ کس راہ پر چلے اور کس راہ پر نہ چلے۔ اس کی پیاس بجانے کے لئے آیات محکمات ہی........

© Daily Urdu