Nizam Ki Shkist o Reset Ka Tareekhi Matalba
نظام کی شکست و ری سیٹ کا تاریخی مطالبہ
اسلام آباد کی تاریخی اور باوقار فضا میں منعقدہ پاکستان کی پہلی قومی اقتصادی سمٹ کی مرکزی تقریب کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا تفصیلی، مدبرانہ اور بے باک خطاب محض ایک روایتی سیاسی بیان، دفتری رسمی گفتگو یا کسی سرکاری تقریب کا تکلفانہ روپ نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے موجودہ مخدوش، ناپائیدار، ابتر اور بحران زدہ سماجی، سیاسی و معاشی ڈھانچے کا وہ حقیقت پسندانہ اور چشم کشا مرثیہ ہے جس کو اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ارباب اختیار اور مقتدر طبقات کی جانب سے شاذ و نادر ہی اس قدر صراحت، دردمندی، دیانت داری اور بے باکی کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنے خلوص نیت اور سچائی کا اعلیٰ ترین مظاہرہ کرتے ہوئے اس تاریخی حقیقت کا برملا اعتراف کیا کہ وہ عموماََ سیاسی نوعیت کی لفاظی، الزامات کی سیاست اور روایتی خطابت سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں تاہم ملک و ملت کے موجودہ ہنگامی حالات، گہرے ہوتے ہوئے معاشی بحرانوں اور آئندہ آنے والی نسلوں کے مخدوش مستقبل نے انہیں اس تلخ ترین اور بھیانک حقیقت کے برملا اظہار پر مجبور کر دیا ہے کہ جس فرسودہ، ناہموار، طبقاتی اور ازکار رفتہ نظام کے تحت ہم اس وقت اپنی قومی زندگی بسر کر رہے ہیں وہ اندر سے مکمل طور پر گل سڑ کر بوسیدہ اور زمین بوس ہو چکا ہے اور اس زوال پذیر ساخت کے اندر رہتے ہوئے اس عظیم مملکت خدا داد کے سنگین اور پیچیدہ معاشی و انتظامی مسائل کا کوئی پائیدار، پختہ یا عاقلانہ حل تلاش کرنا مطلق طور پر نا ممکنات میں شامل ہو چکا ہے۔
ان کا یہ شدید انتباہ اور درد مندانہ تنبیہ انتہائی فکر انگیز اور لائق غور ہے کہ اگر ہماری یہی مجموعی روش، عدم توجہی، غفلت اور ناکارہ انتظامی ڈھانچہ بغیر کسی بنیادی اور انقلابی تبدیلی کے یونہی برقرار رہا تو آیندہ ایک دہائی یعنی دس سال کے طویل عرصے بعد بھی ہم اسی مقام پر کھڑے انہی ناکامیوں، محرومیوں، قرضوں اور پریشانیوں پر نالہ و شیون اور لائحہ عمل کی خالی گفتگو کر رہے ہوں گے کیونکہ جب تک ملکی معیشت، سیاست، قانون اور حاکمیت کی بنیادی چیزوں اور ستونوں کی کامل تصحیح و جراحی نہیں کی جائے گی اس وقت تک یہ ہمہ گیر مسائل اور آفتیں اسی طرح برقرار رہیں گی۔
اس تمام تر ناگفتہ بہ صورت حال میں اصل اور مرکزی........
