Karachi Walay
دوستو! 2009 میں میرا ناول شائع ہوا تھا جس کا نام کراچی والے تھا۔ آج میرے اس مونولاگ کا عنوان یہی ہے۔ یعنی کراچی والے۔ ناول کی کہانی فرضی کرداروں پر مشتمل ہوتی ہے مگر یہاں کوئی کردار فکشنل نہیں ہے۔
کراچی صرف ایک شہر کا نام نہیں۔ یہ زندگی کی پوری معنویت کے ساتھ جیتا جاگتا زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جو دل کی طرح دھڑکتا ہے۔ جس طرح دل کی شریانوں میں سے خون گزر کر مزید خالص ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہ شہر کراچی اپنے اندر بسنے والوں کو خاص الخاص بنا دیتا ہے۔ بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے یہاں رہ کر اعلی مقام حاصل کیا۔ انسانیت کی خدمت کی ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی بہترین صلاحیتوں، محنت اور لگن سے پوری دنیا میں اپنا نام بنایا۔
کراچی روشن خیال تہذیب وفن کا مرکز ہے۔ اپنی بات کی سچائی ثابت کرنے کے لئے میرے سامنے بہت سے نام ہیں۔ اگر میں ان قابل احترام شخصیات کی خدمات کا بھی ذکر کروں تو میرا یہ مونولاگ طوالت اختیار کر جائے گا۔ لہذا اس سے بچتے ہوئے میں صرف ان کی خدمات کے نمایاں شعبوں کا حوالہ ہی دوں گا۔
طب کے شعبے میں اگر دیکھنا ہو کہ انسانیت کے لئے اپنی زندگی کیسے وقف کرتے ہیں تو لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے والے مادام رتھ فاؤ اور حکیم سعید یا لیونگ لیجنڈ ڈاکٹرادیب رضوی کو دیکھنا چاہیے۔
سماجی خدمات کے شعبے میں جمشید نسروانجی، عبدالستار ایدھی، سید ہاشم رضا، عبدالستار........
