menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Moscow Se Makka (17)

21 18
25.01.2026

اگلے روز سے ان کا معمول تھا کہ وہ رات کو ایک ڈیڑھ بجے حرم جانے کے لیے نکلتے تھے اور کہیں جا کر دن کے ایک بجے لوٹتے تھے، یوں مجھے اے سی چلا کر سونے کا کچھ موقع مل جایا کرتا تھا۔ انہیں یہ سمجھانا بیکار تھا کہ اے سی کی ٹھنڈ سے انسان بیمار نہیں ہوتا۔ منہ ماری بھی ہوتی تھی لیکن دونوں فریقوں کو ضبر بھی کرنا پڑتا تھا۔

اب حجاج کی شاپنگ کا دور شروع ہو چکا تھا۔ یہ چاروں تاجک جب بھی لوٹتے تھے تو لدے پھندے ہوتے تھے۔ نئے اور بڑے اٹیچی کیس خرید لائے تھے، جن میں سب سے بڑا اٹیچی کیس شیریں کا تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ حجاج حج سے لوٹتے تو صرف کھجوریں اور آب زمزم لایا کرتے تھے لیکن اب ہر طرف بازار تھے۔ دکانیں تھیں، سڑکوں پر چین کی بنی تسبیحیں، گھڑیاں، روسریاں اور الا بلا بیچا جا رہا تھا۔ لوگ تھے کی ان بیکار سی اشیاء پر ٹوٹے پڑتے تھے، باوجود اس کے کہ سب جانتے تھے، حج کا سیزن مکہ میں کمائی کا سنہری دور ہوتا ہے، ایک کی چیز دس میں ملتی ہے لیکن خریداری سے کوئی بھی ہاتھ نہیں روکتا تھا۔

دو روز بعد میں نے ماگومید کے ساتھ پروگرام بنایا تھا کہ عمرہ کرنے جائیں گے۔ ایک روز ہی ہوا تھا کہ کمپنی "سلوتس" نے فجر، ظہر اور مغرب کے وقت حرم لے جانے کی خاطر بس کا انتظام کر دیا تھا۔ ہم باقی لوگوں کے ہمراہ مغرب سے پہلے حرم پہنچے تھے۔ ماگومید تو احرام باندھ کر ہی بس میں سوار ہوا تھا لیکن میں نے پیکٹ بند نیا احرام ہمراہ لے لیا تھا۔ ہمارے ساتھ منصور تاجک بھی تھا۔ اس نے دور سے سمجھایا تھا کہ کیسے اس مقام تک پہنچا جا سکتا ہے جہاں سے ٹیکسی ملتی ہے جو شہر سے باہر اس مسجد تک لے جاتی ہے، جہاں احرام باندھ کر نیت کرکے حرم لوٹ کر عمرہ ادا کیا جا سکتا ہے۔ حرم کے اندر اور باہر خاصا طویل فاصلہ........

© Daily Urdu