Wo Darakht Jo Saaye Se Rooth Gaya
وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا
شہر کی ایک خاموش گلی میں ایک وسیع گھر تھا۔ اس گھر کی کھڑکیاں بڑی تھیں مگر دل کی ایک کھڑکی ہمیشہ بند رہتی تھی۔ اس گھر کا مالک حارث تھا۔ لوگ اسے دولت مند کہتے تھے مگر گلی کے بچے اسے "بابا درخت" کے نام سے جانتے تھے۔ اس کی جیب میں ہمیشہ ٹافیاں ہوتیں۔ ہاتھ میں کبھی کتاب ہوتی اور کبھی رنگ برنگی پتنگ۔ وہ بچوں کو دیکھتا تو اس کا چہرہ ایسے کِھل اُٹھتا جیسے صبح کی پہلی کِرن شبنم سے لِپٹے پھول کو جگا دے۔
لیکن اس کے دل میں ایک خاموش خلا تھا۔
ہر رات یہ خلا اس کے سینے میں کنویں کی طرح گہرا ہوتا جاتا۔ ایک دن اس نے خود سے کہا "میں دوسروں کے بچوں پر اپنا دل کیوں لٹاؤں۔ اگر اللہ نے مجھے اولاد عطا کی تو میری محبت صرف اسی کی امانت ہوگی"۔
یہ خیال پہلے ایک بیج تھا۔ پھر جھاڑی بنا۔ پھر ایک ایسا درخت جس کی کانٹوں بھری شاخوں نے اس کے دل کو ہی لپیٹ لیا۔
اگلے دن سے اس نے دروازہ بند کر دیا۔
کسی نے دیوار کے اس پار سے کہا۔
"بابا درخت۔ آج........
