Maa Ki Khamosh Dua
شام ڈھل رہی تھی۔ سورج یوں لگ رہا تھا جیسے آگ کا سُرخ چراغ آہستہ آہستہ پہاڑوں کے پیچھے اُتر رہا ہو۔ ایک بیوہ عورت جس کا نام زینب تھا لکڑیاں چُن کر اپنے گاؤں واپس جا رہی تھی۔ اس کی زندگی ایک سوکھے درخت کی مانند تھی۔ شوہر برسوں پہلے دُنیا سے جا چکا تھا۔ نہ کوئی اولاد تھی نہ کوئی سہارا، مگر اس کے دل میں محبت کا ایک ایسا چشمہ بہتا تھا جو کبھی خشک نہ ہوتا تھا۔
جنگلی راستے کے کنارے جھاڑیوں میں سے اچانک کسی ننھے بچے کے رونے کی آواز آئی۔ زینب چونک اٹھی۔ وہ آواز کی طرف بڑھی۔ جھاڑیوں میں ایک نومولود بچہ کپڑے میں لِپٹا پڑا تھا۔ اس کے ننھے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھے ہوئے تھے جیسے وہ دنیا سے زندگی کی بھیک مانگ رہا ہو۔
زینب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
"بیٹا۔ اب تو اکیلا نہیں رہے گا"۔
اس نے بچے کو سینے سے لگا لیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے اس کا خالی آنگن بہار سے بھر گیا ہو۔
گاؤں پہنچی تو لوگوں کی نظریں اس پر جم گئیں۔
"یہ بچہ کہاں سے آیا؟"
"کہیں اپنا گناہ تو نہیں چھپا رہی؟"
ایک بدزبان عورت نے زور سے کہا:
"یہ تو حرام زادہ ہے"۔
یہ لفظ زینب کے دل پر ایسے لگا جیسے کسی نے تازہ زخم پر نمک چھڑک دیا ہو۔ مگر اس نے جواب نہ دیا۔ وہ جانتی تھی کہ خالی برتن زیادہ بجتے ہیں۔
اس نے بچے کا نام احسان رکھا۔
زینب دن بھر محنت کرتی۔ کبھی لوگوں کے کپڑے سیتی۔ کبھی کھیتوں میں کام کرتی۔ کبھی لکڑیاں بیچتی۔ رات کو جب تھک کر لوٹتی تو احسان کو گود میں لے کر لوری سناتی۔
"بیٹا۔ انسان کا اصل نسب اس کے کردار سے پہچانا جاتا ہے"۔
گاؤں والے پھر بھی نہ بدلے۔
"یہ بچہ معلوم نہیں کس کا........
