Falkiyat Ki Tareekh (17)
دوسری صدی قبل مسیح تک اسکندریہ اور یونانی دنیا میں فلکیات ایک باقاعدہ سائنسی شعبے کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ صدیوں پرانے بابلی مشاہدات، یونانی ریاضی اور اسکندریہ کے علمی ماحول نے ایسے علماء پیدا کیے جو صرف نظریات پیش نہیں کرتے تھے بلکہ آسمان کی درست پیمائش بھی کرتے تھے۔ اسی دور میں ایک ایسا فلکیات دان سامنے آیا جسے بہت سے مؤرخ قدیم دنیا کا سب سے بڑا مشاہداتی فلکیات دان قرار دیتے ہیں۔ اس کا نام ہپارکس (Hipparchus) تھا۔
ہپارکس کی زندگی تقریباً 190 سے 120 قبل مسیح کے درمیان گزری۔ اس نے زیادہ تر کام جزیرہ روڈز میں کیا، اگرچہ اس کے تحقیقی روابط اسکندریہ کے علمی مراکز سے بھی رہے۔ اس کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنے سے پہلے کے بابلی فلکی ریکارڈز سے بھی فائدہ اٹھاتا تھا۔ اس کے پاس کئی صدیوں پر محیط مشاہدات موجود تھے، جنہیں اس........
