menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Falkiyat Ki Tareekh (17)

18 0
29.10.2026

دوسری صدی قبل مسیح تک اسکندریہ اور یونانی دنیا میں فلکیات ایک باقاعدہ سائنسی شعبے کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ صدیوں پرانے بابلی مشاہدات، یونانی ریاضی اور اسکندریہ کے علمی ماحول نے ایسے علماء پیدا کیے جو صرف نظریات پیش نہیں کرتے تھے بلکہ آسمان کی درست پیمائش بھی کرتے تھے۔ اسی دور میں ایک ایسا فلکیات دان سامنے آیا جسے بہت سے مؤرخ قدیم دنیا کا سب سے بڑا مشاہداتی فلکیات دان قرار دیتے ہیں۔ اس کا نام ہپارکس (Hipparchus) تھا۔

ہپارکس کی زندگی تقریباً 190 سے 120 قبل مسیح کے درمیان گزری۔ اس نے زیادہ تر کام جزیرہ روڈز میں کیا، اگرچہ اس کے تحقیقی روابط اسکندریہ کے علمی مراکز سے بھی رہے۔ اس کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنے سے پہلے کے بابلی فلکی ریکارڈز سے بھی فائدہ اٹھاتا تھا۔ اس کے پاس کئی صدیوں پر محیط مشاہدات موجود تھے، جنہیں اس........

© Daily Urdu