Shariyat, Jadeed Siasi Nazriyat Aur 2 Sawal
شریعت، جدید سیاسی نظریات اور دو سوال
جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ لبرلزم، اشتراکیت اور فسطائیت روئے زمین پر سب سے بڑی کرپشن ہے اور عصر حاضر میں فساد فی الارض کی سب سے بدترین مثال بھی یہی نظریات اور ان سے جواز یافتہ سیاسی طاقت ہے۔ تحریک تنویر کے بعد، مغرب میں سیاسی طاقت کے ماوی یہی تین نظریات رہے ہیں اور مغرب کی جدید تاریخ انھیں نظریات سے تصویب شدہ سیاسی طاقت کی تاریخ ہے۔ استعمار انھیں نظریات سے تصویب یافتہ سیاسی طاقت کا عالمی مظہر ہے اور جو غارت گر انسانیت ہے اور درندگیِ محض کے عالمگیر تشکیل۔
مغرب سے نمود پانے والے ان تین بڑے سیاسی نظریات کا مآل کار انسانوں کے لیے ایک جیسا ہی رہا ہے۔ فسطائیت کے "گھیرا گھاری کیمپ" (concentration camps)، اشتراکیت کے "گولاگ" (gulags) اور نام نہاد لبرل برطانوی استعمار کی enclosure کی عالمگیریت ایک ہی طرح کے مظاہر ہیں اور یہ بدترین استحصال اور نسل کشی کی بتدریج صنعت کاری کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سیاسی فلسفے محض اکیڈیمک نہیں ہیں بلکہ انھوں نے اپنے انسانیت کش مظاہر اس وقت پیدا کیے جب یہ سیاسی طاقت اور سرمائے میں مدغم ہو کر تاریخ میں مؤثر ہو گئے۔ نظریے کا مکھوٹہ بھلے سیکولر ہو بھلے مذہبی، اس کی طاقت سے نسبتیں بالکل ایک جیسی ہوتی ہیں اور ان سے جواز یافتہ سیاسی طاقت نوعاً بھی ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔
مذہبی سیاسی مباحث میں ایک بنیادی ترین بات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ الوہی امر اور نظریہ باہم یک نگر (mutually exclusive) ہوتے ہیں اور ان میں کوئی نسبتیں اولاً موجود ہی نہیں ہوتیں۔ یہ ضرور ہے کہ........
