menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Raat Aur Khamoshi

10 1
07.02.2026

خدا جانے رات پہ ایسی کیا گزری ہوگی جس کے کرب سے یہ ہمیشہ سے خاموش رہتی ہے۔ مجھے رات کا یوں اپنے ہونٹ سینا نہایت برا لگتا ہے اور کبھی کبھار اس پہ ترس بھی آتا ہے کہ شاید اسے بھی کوئی سننے والا چاہئے جسے وہ حال دل سنا سکے۔ لیکن ہر کسی کا حال دل سننے کے لیے اتنے سننے والے بھی انسان کہاں سے ڈھونڈ کے لائے۔ اتنے سننے والے میسر ہوتے تو سائکاٹرسٹ کو سیشن کی فیس دے کر سنانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ چلو خیر ہے اب رات کی کہانی کون سنے گا یہاں تو ہر چوتھے پانچویں شخص کے پاس سنانے کے لئے کوئی نہ کوئی ان کہی دردناک کہانی ہے اور اسے سننے کے لئے سائکاٹرسٹ تو بہت دور کی بات ہے، عام انسان مل جائے تو بھی غنیمت ہے۔

یہ انسان ایک دوسرے کو کیوں نہیں ملتے، ایک دوسرے کو کیوں نہیں سنتے، یہ انسان ایک دوسرے سے........

© Daily Urdu