menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hosla Kamyabi Ki Seerhi

15 0
yesterday

حوصلہ کامیابی کی سیڑھی

صورتحال کا اگر گہرائی اور حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں۔ لیکن جب ہم زمینی حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وسائل موجود ہیں، مسائل کے حل کے لیے ادارے بھی موجود ہیں، منصوبے بھی بنتے ہیں اور بجٹ بھی مختص ہوتے ہیں، مگر اصل ضرورت اس سوچ کی ہے جو دستیاب وسائل کو عوامی ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کا عزم رکھتی ہو۔

کسی بھی معاشرے کی ترقی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب عام آدمی کے روزمرہ مسائل کو بھی اہمیت دی جائے۔ ایک ٹوٹی ہوئی سڑک کسی افسر کے لیے شاید ایک فائل کا معاملہ ہو، لیکن ایک طالب علم، مزدور، کسان، ملازم یا موٹر سائیکل پر اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے والے والدین کے لیے یہی سڑک روزانہ کی آزمائش بن جاتی ہے۔ 18 فور ایل تا چیک پوسٹ روڈ اور 22 فور ایل تا 31 فور ایل روڈ کے مسائل بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ سڑکیں صرف اینٹ، بجری، تارکول اور مٹی کا نام نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کی روزمرہ زندگی، روزگار، تعلیم، علاج معالجہ اور آمدورفت سے جڑی ہوئی ہیں۔

گزشتہ کئی برسوں سے 18 فور ایل تا چیک پوسٹ روڈ پر سفر کرنے والے شہری مشکلات کا سامنا کرتے رہے۔ کہیں سائیکل پنکچر، کہیں موٹر سائیکل کا توازن خراب، کہیں بچوں کو سکول پہنچانے کی فکر اور کہیں مریض کو منزل تک لے جانے کی پریشانی، یہ وہ مسائل ہیں جن کا احساس وہی شخص کرسکتا ہے جو خود اس راستے سے گزرتا ہے۔ اسی طرح 22 فور ایل سے 31 فور ایل تک رابطہ سڑک کا معاملہ بھی مقامی آبادی کے لیے طویل عرصے سے ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ مسئلہ صرف سڑک کا نہیں، سوچ کا بھی ہے ترقی یافتہ معاشروں میں یہ اصول تسلیم کیا جاتا ہے کہ ریاستی وسائل کا فائدہ ہر شہری تک پہنچنا چاہیے۔

پنجاب حکومت نے بھی دیہی رابطہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کو........

© Daily Urdu