Qaumi Hukumat Ka Vavela Kyun?
قومی حکومت کا واویلا کیوں؟
پاکستان اس وقت ایک غیر معمولی اور فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف عوام کو درپیش بہت سے مسائل ہیں، تو دوسری طرف تعمیرِ نو کے شاندار مواقع بھی سامنے ہیں۔ موجودہ ملکی حالات اور معاشی اشاریوں کا اگر گہرائی اور سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ملک کو درپیش معاشی اور سماجی مسائل کسی ایک فرد، موجودہ دور کی حکومت یا کسی مخصوص ادارے کے پیدا کردہ نہیں ہیں، بلکہ یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ڈھانچہ جاتی خرابیوں اور پالیسیوں کے تسلسل کا نتیجہ ہیں۔ ان حالات میں روایتی الزام تراشی، ماضی کے گلے شکوے کرنے یا ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے بجائے، تمام قومی اسٹیک ہولڈرز کے مابین باہمی اشتراکِ عمل، پائیدار ہم آہنگی اور تعمیری سوچ ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں بحرانوں کی دلدل سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
کسی بھی ریاست کی سلامتی اور خوشحالی کا دارومدار اس کے مضبوط آئینی اداروں کے مابین توازن اور منتخب قیادت کی دور اندیشی پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت جہاں حکومتِ وقت کو کٹھن معاشی پالیسیوں کی تشکیل، مہنگائی کے جن پر قابو پانے، ٹیکس نیٹ میں اضافے اور آئی ایم ایف سمیت دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاملات کو شفاف طریقے سے آگے بڑھانے جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، وہاں ہماری مقتدرہ اور سیکورٹی فورسز ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اور اندرونی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے شب و روز مصروفِ عمل ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیش بہا قربانیاں دے رہی ہیں۔ ملک میں پائیدار امن کے قیام، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تحفظ کا احساس دلانے اور معاشی پہیہ چلانے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں ہماری اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ ایک کلیدی ستون کا کردار ادا کیا ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہی معاشی تنگیوں اور سیاسی کھینچا تانی کے پس منظر میں حالیہ دنوں میں سیاسی پنڈتوں، سول سوسائٹی اور عوامی حلقوں میں ایک وسیع البنیاد قومی حکومت یا طویل المدتی ٹیکنوکریٹ سیٹ آپ کے قیام کا........
