menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bas Aik Tv Aur Dher Sari Khushiyan

8 0
latest

بس ایک ٹی وی اور ڈھیر ساری خوشیاں

وقت کے بے رحم دھارے نے ہمیں ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں مادی ترقی کے مینار تو بہت بلند ہیں، لیکن انسانی رشتوں کی بنیادیں کمزور پڑ چکی ہیں۔ آج ہمارے ہاتھوں میں دنیا کے مہنگے ترین اسمارٹ فونز ہیں، گھروں میں آپٹک فائبر اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے، لیکن وہ ایک "سکون" جو کبھی ہماری زندگیوں کا لازمی جزو ہوا کرتا تھا، آج ڈیجیٹل دنیا کے شور اور نوٹیفیکیشنز کے ہجوم میں کہیں گم ہوگیا ہے۔ اگر ہم مڑ کر ماضی کے دریچوں میں جھانکیں، تو وہ سادہ سا دور کسی خوبصورت خواب جیسا لگتا ہے، جب زندگی کی کل کائنات ایک لکڑی کے شٹر والا ٹی وی اور محلے بھر کی بے لوث محبتیں ہوا کرتی تھیں۔

وہ بھی کیا دن تھے! جب پورا محلہ ایک خاندان کی طرح ہوتا تھا۔ کسی ایک گھر میں ٹی وی آنا صرف اس گھر کی خوشی نہیں بلکہ پورے محلے کا ایک بہت بڑا "ایونٹ" بن جاتا تھا۔ اس دور میں تفریح محض ایک اسکرین تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ سماجی میل جول کا ایک بہانہ تھی۔ شام ہوتے ہی صحنوں میں پانی کا چھڑکاؤ ہوتا، مٹی کی سوندھی خوشبو چاروں طرف پھیل جاتی، کرسیاں لگتیں اور پھر شروع ہوتا تھا "محبتوں کا میلہ"۔ تب وائی فائی کے سگنلز گرنے کی ٹینشن تھی اور نہ ہی واٹس ایپ کے مسلسل بجنے والے پیغامات کا شور۔ تب سگنل صرف چھت پر لگے اس ایلومینیم کے "انٹینا" کے ہوا کرتے تھے، جسے ٹھیک کرنا بھی ایک مشترکہ مہم ہوتی تھی۔ ایک بندہ چھت پر انٹینا گھما رہا ہوتا اور نیچے سے پورا خاندان ایک آواز ہو کر پکارتا "آ گیا؟ تھوڑا اور بائیں۔۔ ہاں! اب ٹھیک ہے، وہیں روک دو!" اس ایک تصویر کا صاف ہو جانا جیسے زندگی کی سب سے بڑی فتح ہوتی تھی۔

آج ہمارے پاس نیٹ فلکس، یوٹیوب اور ایمیزون پرائم پر ہزاروں فلمیں اور ڈرامے موجود ہیں، لیکن وہ "سحر" کہیں نہیں ملتا جو پی ٹی وی کے ایک ڈرامے میں ہوتا تھا۔ جب کوئی مشہور ڈرامہ، جیسے "تنہائیاں"، "دھوپ کنارے" یا "وارث" لگتا تھا، تو ملک بھر کی سڑکیں سنسان ہو جاتی تھیں۔ تب ہم اسکرین پر صرف کہانی نہیں دیکھتے تھے، بلکہ کرداروں کے ساتھ دکھ سکھ بانٹتے تھے۔ ہیرو کی جیت پر پورا محلہ تالیاں بجاتا اور کسی غمگین منظر پر سب کی آنکھیں ایک ساتھ نم ہوتی تھیں۔ وہ دور"اجتماعی خوشی" کا دور تھا، جہاں ہر گھر کی دیوار دوسرے گھر کے لیے پردہ تو تھی لیکن رکاوٹ نہیں تھی۔

سچ تو یہ ہے کہ آج کے اس مشینی دور میں جہاں ہر شخص اپنی ذات کے حصار میں قید ہو کر"سوشل میڈیا" کا قیدی بن چکا ہے، میں اب بھی ان پرانی قدروں اور اپنے پن کی تلاش میں رہتا ہوں۔ اسی لیے میرا یہ پکا معمول ہے کہ جب بھی میں نشتر ٹاؤن پریس کلب کے آفس پہنچتا ہوں، تو میرا سب سے پہلا کام موبائل پر انگلیاں چلانا یا دنیا بھر کی ہیڈ لائنز دیکھنا نہیں ہوتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خبروں سے زیادہ اہم وہ جیتے جاگتے انسان ہیں جو ہمارے سامنے موجود ہیں۔ میں سب سے پہلے اپنے نہایت محترم سینئر عامر سہیل مٹو صاحب اور معروف صحافی و کالم نگار عبداللطیف بیگ صاحب کو کال کرتا ہوں اور انہیں پریس کلب آنے کی دعوت دیتا ہوں۔

میرا مقصد صرف ان سے پیشہ ورانہ ملاقات کرنا نہیں، بلکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر وہ روایتی چائے پینا ہوتا ہے جس میں پرانے وقتوں جیسی محبت اور خلوص رچا ہوتا ہے۔ ان سینئرز کی رفاقت میں مجھے آج بھی وہی "اپنا پن" محسوس ہوتا ہے جو کبھی محلے کے اس ایک ٹی وی کے گرد بیٹھ کر ملا کرتا تھا۔ ان کی باتیں، ان کے تجربات اور ان کا دھیما لہجہ مجھے احساس دلاتے ہیں کہ رشتے اسکرینوں کے محتاج نہیں، بلکہ آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کا حال جاننے اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرنے سے زندہ رہتے ہیں۔ عامر سہیل مٹو صاحب کی شفقت اور عبداللطیف بیگ صاحب کی دانائی بھری باتیں اس ڈیجیٹل دور کے حبس میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند ہیں۔

آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک ہی کمرے میں، ایک ہی صوفے پر بیٹھ کر بھی ایک دوسرے سے میلوں دور ہیں۔ ہر کوئی اپنی اپنی اسکرین کی نیلی روشنی میں گم ہے۔ باپ کو معلوم نہیں کہ بیٹے کے دل میں کیا چل رہا ہے اور بھائی کو خبر نہیں کہ بہن کس پریشانی میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ہمارے ہزاروں "فرینڈز" اور"فالوورز" تو ہیں، لیکن سچی بات یہ ہے کہ جب دل بوجھل ہو تو حال سنانے کے لیے کوئی ایک سچا دوست پاس نہیں ہوتا۔ ہم نے ترقی تو بہت کر لی، پوری دنیا کو ایک چھوٹی سی مٹھی میں مقید بھی کر لیا، مگر اس مٹھی سے وہ "خالص پن" ریت کی طرح پھسل گیا جو کبھی ہماری پہچان ہوا کرتا تھا۔

ٹیکنالوجی نے فاصلے تو مٹا دیے، مگر قربتیں چھین لیں۔ ہم نے "اسمارٹ" فون تو خرید لیے، مگر شاید ہم خود اتنے اسمارٹ نہ رہ سکے کہ جذبوں کی قدر کر سکیں۔ پہلے لوگ غریب تھے مگر ان کے صحن اور دل بڑے تھے۔ آج گھر بڑے ہو گئے ہیں اور انسانوں کے دل تنگ۔ پہلے ایک ٹی وی تھا اور پورا محلہ خوش تھا، آج ہر فرد کے پاس ذاتی اسکرین ہے لیکن ہر دل اداس ہے۔ میری اس تحریر کا مقصد صرف ماضی کا نوحہ لکھنا یا صرف یادوں کی راکھ کریدنا نہیں ہے، بلکہ اس بنیادی احساس کو یاد دلانا ہے کہ اصل خوشی آلات (Gadgets) میں نہیں، بلکہ اپنوں کے ساتھ گزارے ہوئے ان لمحات میں ہے جو ہم "مصروفیت" کے نام پر قربان کر چکے ہیں۔ زندگی بہت مختصر ہے اور یہ ڈیجیٹل دنیا ایک سراب ہے۔ اصل زندگی وہ ہے جو ہم اپنے سینئرز، اپنے والدین، اپنے بچوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔

کاش! وہ انٹینا والا دور، وہ لکڑی کے شٹر والا ٹی وی اور وہ بے لوث محبتیں ایک بار پھر لوٹ آئیں۔ کاش ہم دوبارہ اس سادگی کی طرف پلٹ سکیں جہاں انسان مشین نہیں تھا، بلکہ ایک جیتا جاگتا "احساس" تھا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک ہم اپنی اسکرینوں سے نظریں ہٹا کر سامنے بیٹھے انسان کے چہرے کو نہیں پڑھیں گے، ہم اس "سکون" کو کبھی نہیں پا سکیں گے جسے ہم نے اسمارٹ فونز کے اس شور زدہ جنگل میں گم کر دیا ہے۔ خوشی صرف ایک ٹی وی میں نہیں تھی، وہ اس اشتراک میں تھی جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتا تھا۔ آئیے، اس ٹوٹے ہوئے رابطے کو پھر سے جوڑنے کی کوشش کریں۔


© Daily Urdu