menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zehni Tashadud: Khamosh Tashadud Ki Aik Khatarnak Shakal

36 0
15.07.2026

ذہنی تشدد: خاموش تشدد کی ایک خطرناک شکل

انسانی زندگی میں الفاظ کی طاقت بہت زیادہ ہے۔ الفاظ دلوں کو جوڑ بھی سکتے ہیں اور توڑ بھی سکتے ہیں، امید بھی دے سکتے ہیں اور مایوسی کی گہری کھائی میں بھی دھکیل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تشدد کو صرف جسمانی نقصان تک محدود سمجھنا ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد کی سب سے خطرناک شکل وہ ہوتی ہے جو جسم پر نہیں بلکہ ذہن، احساسات اور شخصیت پر وار کرتی ہے۔ اسے ذہنی یا نفسیاتی تشدد کہا جاتا ہے۔

جسمانی زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں، ان کے نشانات ماند پڑ جاتے ہیں اور درد بھی کم ہو جاتا ہے، مگر ذہنی تشدد کے زخم اکثر برسوں تک انسان کے وجود کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ یہ زخم نہ آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں، نہ ہی ان کا کوئی ایکسرے یا میڈیکل ٹیسٹ ہوتا ہے، لیکن ان کی تکلیف اتنی شدید ہو سکتی ہے کہ انسان کی پوری زندگی متاثر ہو جائے۔

ذہنی تشدد کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ خاموشی سے ہوتا ہے۔ ایک عورت یا مرد بظاہر ایک عام زندگی گزار رہا ہوتا ہے، گھر میں موجود ہوتا ہے، لوگوں کے درمیان بیٹھتا ہے، مسکراتا بھی ہے، مگر اندر سے وہ مسلسل ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ اس کے اعتماد کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہوتا ہے، اس کی صلاحیتوں کو کمتر ثابت کیا جا رہا ہوتا ہے اور اسے یہ باور کرایا جا رہا ہوتا ہے کہ وہ بے وقعت، ناکام یا نااہل ہے۔

ہمارے معاشرے میں ذہنی تشدد کی کئی شکلیں موجود ہیں۔ کسی عورت کو بار بار یہ کہنا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتی، اس کی تعلیم یا قابلیت کا مذاق اڑانا، اس کی رائے کو اہمیت نہ دینا، ہر وقت اس پر شک کرنا، اس کی کردار کشی کرنا، دوسروں کے سامنے اس کی تذلیل کرنا، اسے جذباتی طور پر بلیک میل کرنا یا اس کے احساسات کو مسلسل نظر انداز کرنا، سب ذہنی تشدد کی مثالیں ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر لوگ اسے تشدد ہی نہیں سمجھتے۔ اگر کوئی عورت مارپیٹ کا شکار ہو تو لوگ فوراً اسے ظلم قرار دیتے ہیں، لیکن اگر وہ روزانہ تحقیر، تضحیک اور ذہنی اذیت سہہ رہی ہو تو اسے صبر، برداشت اور سمجھوتے کا مشورہ دیا........

© Daily Urdu