Gharelu Zurat Ba Muqabla Tik Toker Aurat
ہمارا معاشرہ آج ایک فکری دو راہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف وہ عورت ہے جو گھر کی چار دیواری میں رہ کر خاندان، رشتوں اور اقدار کی نگہبان ہے، دوسری طرف وہ عورت ہے جو ڈیجیٹل دنیا میں اپنی شناخت بناتی ہے، دیکھی جاتی ہے اور سنی جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ان میں سے کون بہتر ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے عورت کی عزت کا معیار کیا بنا لیا ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ عورت کی وقار اس کے مقام سے نہیں، اس کے کردار سے جڑا ہوتا ہے:
"A womans dignity is not defined by where she stands, but by what she stands for. "
گھریلو عورت کی محنت خاموش ہوتی ہے۔ وہ تالیاں نہیں بٹورتی، مگر اس کی گود میں پلنے والی نسلیں پورے معاشرے کی سمت متعین کرتی ہیں۔ اسی لیے کہا گیا:
"The hand that rocks the cradle rules the world. "
بدقسمتی سے ہم اس خاموش محنت کو نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ
"Unpaid work is still work, and invisible labor still shapes society. "
دوسری طرف ٹک ٹاکر عورت جدید دور کی نمائندہ ہے۔ اس نے ٹیکنالوجی کو ذریعہ بنا کر اظہار، آمدن اور پہچان حاصل کی۔ یہ مواقع اپنی جگہ قابلِ قدر ہیں، مگر مسئلہ تب جنم لیتا ہے جب اظہار، نمائش بن جائے........
