menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Protocol Culture Kabhi Khatam Ho Sakay Ga?

19 0
23.08.2026

پروٹوکول کلچر کبھی ختم ہو سکے گا؟

گزشتہ ہفتے اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک عام سے منظر کو مین اسٹریم اور سوشل میڈیا نے جھٹ سے وائرل کر دیا۔ ناروے کے وزیرِ خارجہ اپنا ٹرالی بیگ تھامے بغیر کسی پروٹوکول عام مسافروں کی طرح ایئرپورٹ سے باہر نکلے لیکن میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین نے اس منظر کو حاکمیت کے روایتی پروٹوکول پر طنز اور اپنے سیاسی غصے کے اظہار کا موثر ذریعہ بنا ڈالا۔ ایک نارمل اور سادہ عمل کا اس قدر وائرل ہو جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں پروٹوکول عوامی سطح پر کس قدر ناپسندیدہ ہے۔

پاکستان کی سیاسی اور انتظامی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں اقتدار کی نمائش صرف کسی ایک دور، ایک حکومت یا ایک مخصوص ادارے تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ روایت ہمارے مجموعی قومی مزاج کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔

کسی بھی اعلیٰ سرکاری عہدیدار یا حاکم، سیاست دان کا اسپتالوں اور ترقیاتی منصوبوں کا دورہ ہو، ہوائی اڈے پر آمد و رفت ہو یا کوئی نجی تقریب، پولیس گاڑیوں کی قطاریں، سائرن بجاتے اسکواڈز، سڑکوں کی بندش اور عام شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی ایک متفقہ روایت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ پروٹول کلچر کسی خاص سیاسی جماعت کے دور کا لازمہ نہیں رہا، بلکہ تمام ادوار کی مسلسل اور مشترکہ روایت رہا ہے۔

یہی حکمران اور سینئر افسران ملک کی حدود سے باہر بڑے سکون سے " عام شہری" بن جاتے ہیں، لائن میں کھڑے ہوتے ہیں، اپنا سامان خود اٹھاتے ہیں۔ ایئرپورٹ یا ہوٹل، اپنا چیک ان خود کرنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے، گاڑی کا دروازہ خود کھولتے اور بند کرتے ہیں۔

ایک پرانا واقعہ یاد آیا۔ ہم ہانگ کانگ سے واپسی کے سفر پر تھے۔ ہانگ کانگ ایئرپورٹ کے بزنس لاوئج........

© Daily Urdu