menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Manzil Kyun Nahi Aayi?

24 0
16.08.2026

ہر سال کی طرح یہ 14اگست بھی شان بان سے گزرا، سرکاری عمارتوں پر پرچموں اور روشنیوں کی سجاوٹ، ٹی وی پر ملی نغموں اور کامیابیوں کا شہرہ، سرکاری اور نجی اداروں میں پرچم کشائیوں کا سہرا، سڑکوں پرجذبات کا شور شرابہ۔

اب یہی یوم آزادی کی رسم اور دستور رائج ہے۔ رنگ و نور، جذباتی نعرے اور بیانات اپنی جگہ، آٹھ دہائیوں کا سفر طے کرنے پر صرف شادمانی کا مظاہرہ کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم کچھ دیر اپنے سیاسی، آئینی اور معاشی حالات کا ٹھنڈے دل و دماغ سے بے لاگ جائزہ لیں۔

ایمانداری سے اپنا احتساب کریں تو یہ تلخ حقیقت چھپائے نہیں چھپتی کہ آزادی کی شروعات میں ہم نے جو خواب دیکھے تھے، آج زمینی اور معاشی حقائق ان سے بہت مختلف ہیں۔

ہماری قومی تاریخ کا ایک بنیادی المیہ یہ رہا ہے کہ ہم نے طویل المدت ریاستی و معاشی فیصلوں کو ہمیشہ عارضی سیاسی فائدوں، ذاتی مفادات اور دیدہ و نادیدہ سیکیورٹی خدشات کی قربان گاہ پر چڑھایا۔

نتیجتاً ملک ایک بحران سے نکل کر دوسرے بحران کی دلدل میں گرتا رہا۔ ہماری قومی پالیسیوں میں کبھی وہ استحکام اور تسلسل پیدا نہ ہو سکا جو قوم کو مضبوطی سے جوڑنے اور معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے بنیادی شرط ہوتا ہے۔

قیامِ پاکستان کے وقت ہم نے انتہائی کٹھن حالات میں سفر کا آغاز کیا تھا۔ ہمارے حصے میں نہ کوئی بڑا صنعتی ڈھانچہ آیا تھا اور نہ ہی مستحکم مالیاتی خزانہ موجود تھا، جبکہ دوسری جانب لاکھوں بے گھر مہاجرین کی آباد کاری کا بوجھ نوزائیدہ ریاست کے سر پر تھا۔

اس مالی و معاشی تنگی سے بھی بڑا المیہ یہ ہوا کہ ہم ملک کے ابتدائی نو سالوں میں ایک متفقہ آئین تک نہ بنا سکے۔ اس طویل آئینی خلا نے ملک کی........

© Daily Urdu