Gul Plaza Ki Aag: Hadsa Nahi, Ijtemai Ghaflat Hai
گل پلازہ کی ہولناک آتشزدگی کے شعلے ٹھنڈے ہوئے تو اس سانحے پر سیاسی دشنام طرازی کے شعلے اسی تیزی سے بھڑک اٹھے۔ صوبائی حکومت اور مئیر کراچی کی جماعت پر فائر بریگیڈ کی تاخیر سے آمد، ناقص کارکردگی اور پانی کی وافر دستیابی نہ ہونے سمیت سانحے کے مختلف پہلوؤں پر تنقید ہوئی۔ ایم کیو ایم نے شہر کراچی کی ناپرسانی کا گلہ کیا اور اسے وفاقی علاقہ قرار دینے کا مطالبہ بھی کردیا۔
آتشزدگی کے مناظر، 67 سے زائد لاشوں اور 80 سے زائد افراد کی تاحال گمشدگی کی تفصیلات ہم ایسے کمزور دلوں کو دیکھنے کا حوصلہ ہے نہ سننے کا۔ ابتدائی انکوائری رپورٹ کے مطابق آگ گراؤنڈ فلور پر مصنوعی پھولوں کی ایک دکان میں لگی اور پھر تیزی سے پھیلتی گئی۔ اوور کراؤڈڈ پلازے کی 1200 دکانوں میں سے صرف 200 دکانوں پر آگ بجھانے کے آلات نصب تھے۔ نہیں معلوم کہ یہ سب چالو حالت میں تھے یا نہیں؟ انھیں استعمال کرنے کی ٹریننگ بھی متعلقہ لوگوں نے لے رکھی تھی یا نہیں؟ اس پلازے میں فائرفائٹنگ کی کبھی ڈرل یعنی مشق بھی ہوئی یا نہیں؟ ایمرجنسی دروازوں کی موجودگی اور رسائی پر بھی سوالات ہیں۔
کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی نے ایک بار پھر ہمارے شہروں کی ایک بڑی کمزوری کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اس آگ میں قیمتی تجارتی سامان مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوا، درجنوں دکانیں متاثر ہوئیں، روزگار کا ایک بڑا ذریعہ لمحوں میں خاکستر ہوگیا لیکن جانی نقصان کا دلخراش المیہ سب پر بھاری ہے۔ ایک دوسرا المیہ مگر یہ بھی ہے کہ ہم ایسے سانحات کے عادی کیوں ہو چکے........
