Ai: Abhi Se Aape Se Bahir
اے آئی: ابھی سے آپے سے باہر
بہاولپور سے آنے والی یہ خبر ناقابل یقین لگی۔ دوبارہ تفصیل سے پڑھا تو حیرت اور خوف نے دبوچ لیا۔ حیرانی یہ کہ والدین کا اکلوتا بیٹا کس آسانی سے اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ والد سے چھٹکارا پانا چاہیے۔
خوف اس بات کا کہ اس نے آس پاس کسی سے مشورہ کرنے کے بجائے اے آئی کو اپنا مشورہ داں اور رازداں بنایا اور اے آئی نے اسے جھٹ سے "مدد" فراہم کردی۔ گیارہویں جماعت کے اس طالبعلم نے کرائم ڈرامے دیکھ کر گھر میں خود ہی کیمیکلز تجربے کا سوچا اور دو جگہوں سے آن لائن کیمیکلز منگوائے۔
اپنے والد کو زہر دینے کی پہلی کوشش ناکام ہوئی تو بھی اس نے کسی انسان سے مشورہ کرنے یا خوفزدہ ہونے کے بجائے مصنوعی ذہانت (AI) کا سہارا لیا۔ اس نے چیٹ بوٹ سے پوچھا کہ کون سا کیمیکل ایسا ہے جو انسان کی جان لے لے اور کسی ٹیسٹ میں بھی نہ آئے۔
پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا باضابطہ رپورٹ ہونے والا پہلا واقعہ ہے جہاں ایک نوجوان نے جرم کی منصوبہ بندی کے لیے براہِ راست مصنوعی ذہانت کو اپنا رہنما بنایا۔ یہ خبر اور اے آئی پر اندھے بھروسے کا یہ رویہ اس بھیانک حقیقت کا اشارہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی ہمارے گھروں اور بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کی نفسیات میں کتنی خاموشی سے داخل ہو چکی ہے۔
مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ الگورتھم غلط ہاتھوں میں پڑ گئے تو یہ "ایک ارب انسانوں کی ہلاکت" کا باعث بن سکتے ہیں! جی، بل گیٹس کے مطابق انسانی تاریخ میں ایسا کوئی ہتھیار تیار نہیں ہوا جو بدقماش اور بدنیت افراد اور جدید AI کے ملاپ سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہو۔
دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی کے سکیورٹی اور اخلاقی بریک ڈاؤن کے واقعات میں روزبروز........
