menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Raah e Nijat

34 0
08.05.2026

جنوبی پنجاب کے شہر تونسہ کے والدین کا دکھ اور کرب حکمران کیسے سمجھ سکتے ہیں، جنہیں اس ریاست میں علاج معالجہ کرانے کی "سعادت" کم ہی ملتی ہے، اللہ نہ کرے ان کے بچے موذی مرض جیسی تکا لیف سے گزریں، جو تونسہ کے بچوں درپیش رہی، ماں جیسی ہستی جسے گوارہ نہیں کہ معمولی کانٹا بھی بچے کو چبھے، اس کے سامنے اس کا آٹھ سالہ لخت جگر شدید درد میں مبتلا ہو اور ایسے چلائے جیسے اسکو گرم تیل میں پھینک دیا گیا ہو، وہ شدید بخار میں تپتے ہوئے جسم کے ساتھ بارش میں سونے کی ضد کر تا ہو، سوچئے اس کی ممتا کس ذہنی اذیت سے دو چار ہوگی۔

بد قسمتی سے اس کا جگر گوشہ موذی بیماری سے ملک عدم ہوا، تو اس کی بہن نے اسکی قبر پر جھکتے ہوئے کہا کہ وہ مجھ سے لڑتا تھا مگر پیار بھی بہت کرتا تھا، اس معصوم کو کیا خبر تھی کہ جس بیماری میں اس کا بھائی مبتلا ہے وہ بھی اس کا شکار ہوجائے گی، یہ کہانی ان تاروں کی ہے جو تونسہ کی سر زمین پر پیدا ہوئے اور پھر ہسپتال کے طبی عملہ کی غفلت کا شکار ہو کرکچھ ابدی نیند سو گئے، میڈیا کے مطابق331 بچے متاثرہ ایچ وی آئی تھے، خفیہ فلمنگ سے برطانوی نشریاتی ادارہ آنکھوں دیکھا حال اگر نہ سناتا تو تونسہ تحصیل ہسپتال کی انتظامیہ کا راوی چین ہی چین لکھتا، مذکورہ فلم میں ڈاکٹرز سے لے کر نرسز اور دیگر طبی عملہ ایسی غفلت کا مرتکب ہوا، جس کا تصور بھی محال ہے، سچ یہ ہے کہ یہ محض بچے ہی نہیں بلکہ331خاندان ہیں، جو اپنے پھول جیسے بچوں کی تکلیف کی وجہ سے اضطرابی کیفیت سے........

© Daily Urdu