menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qanoon Sazi Ki Tarjeehat

10 5
30.01.2026

جب سے آئین کی 26 اور 27 ترامیم منظور ہوئی ہیں، در زبان پنجابی پارلیمنٹ کا "جھاکہ" کھل گیا ہے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل بھی اسی تناظر میں مگر عجلت میں منظور ہواہے، اس کے تحت اراکین پارلیمنٹ کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھا جائے گا، اس کے پیچھے جو مصلحت بتائی گئی ہے وہ ان کی مالی اور جانی سکیورٹی ہے، یہی کہا جاتا ہے کہ عوامی نمائندگان پبلک پراپرٹی ہوتے ہیں، جہاں ان پر تنقید عوامی حق تصور ہوتی ہے وہاں انکے اثاثہ جات بھی زیر بحث ہوتے ہیں خلیفہ وقت سے اضافی چادرکا سوال پبلک میں کیا جاناان کے استثنیٰ کو رد کرتا ہے، تاریخی اور، سنہری دور میں ارباب اختیار منصب سنبھالتے وقت اپنے اثاثہ جات سے قوم کو آگاہ کرتے اور رخصت ہوتے ہوئے بھی ایسی مشق ہوتی تھی تاکہ عوام جان سکے بیت المال کو کس طرح امانت سمجھا گیا، درد دل رکھنے والے ایسے حکمران صدیاں گزرنے کے بعد بھی دلوں میں بستے ہیں، فی زمانہ اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے کی خواہش اورعمل ہی بتاتا ہے کہ دال میں کچھ کالاضرور ہے، ڈھٹائی کاعالم یہ ہے کہ پارلیمانی وفد کی بمع اہل خانہ ہر سال سرکاری خرچ پر عوام کی طرف سے روضہ رسول پر سلام عقیدت پیش کرنے کا مطالبہ مذہبی امور کمیٹی نے کیا ہے۔

خواتین کے تحفظ کے لئے قومی اسمبلی سے ایک نیامنظور ہوا ہے، مذکورہ بل اسی کا تسلسل ہے جو سابقہ عہد میں انسانی حقوق کی مزاری فیملی کی وزیرخاتون نے پیش کیا، اس کی کچھ شقوں میں اضافہ کیاگیا ہے، خواجہ سرا، معذور اور عمر رسیدہ افراد اور بچوں کو شامل کیا گیا، اس پر مختلف آرا اور تحفظات ہیں، بعض کے........

© Daily Urdu