menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Toheed Ka Aik Qurani Khutba

9 0
yesterday

توحید کا ایک قرآنی خطبہ

آج کل میرے مطالعہ میں سورہ نمل ہے، نمل عربی میں چیونٹی کو کہتے ہیں۔ اس سورت میں ایک چیونٹی، ایک ھدھد، ملکہ سبا، شاہی تخت اور حضرت سلیمانؑ کا واقعہ بیان ہوا ہے، کچھ اور پیغمبران کا تذکرہ بھی آیا ہے۔

سورۃ نمل کے آخر میں رب العزت نے ایک عظیم الشان بلکہ فقید المثال خطبہ دیا ہے جو تین رکوع تک چلا گیا ہے، اس خطبے میں ساری کائنات کے مالک نے ساری کائنات ہی کو مخاطب کیا ہے اور خود توحید کے دلائل دیے ہیں لیکن بڑی عظمت کے ساتھ اور بڑے وقار کے ساتھ، ہر بات اپنی جگہ جچی تلی اور مکمل ہے اور اگلی بات سے متصل بھی ہے البتہ مرکزی خیال توحید ہی ہے۔

اس طرح یہ خطبہ دماغ کے لیے عقل بخش، دل کے لیے حرارت خیز اور روح کے لیے روح افزا ثابت ہوا ہے۔ یہاں پہنچ کر اپنی عربی کی کم مائیگی کا شدت سے احساس ہوتا ہے کیوں کہ اصل لذت و تاثیر عربی ہی میں ہے، کسی دوسری زبان میں اس بلاغت کا ترجمہ کرنا از حد دشوار ہے، بس ترجمے سے صرف مفہوم ہی ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اللہ تعالی کے کلام کی خاص صفت ہر قسم کے اثر سے آزاد ہونا ہے، حضرت ﷺ کے کلام (حدیث) پر اللہ تعالی کے رعب اور ڈر کا اثر صاف محسوس ہوتا ہے کیوں کہ ساری مخلوق میں آقاؑ سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا اور کون ہو سکتا ہے، البتہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے جس میں بے نیازی اور بڑائی اور شان ایک ہی وقت میں عروج پہ نظر آتی ہیں۔

خطبہ ملاحظہ فرمائیے لیکن اس سے قبل یہ یاد رہے کہ چوں کہ یہ خطاب حضرت ﷺ کے ذریعے کیا جا رہا ہے اس لیے شروع میں اللہ کی حمد اور اس کے برگزیدہ بندوں پہ سلام بھیج کر گویا یہ ادب سکھایا جا رھا ہے کہ کسی بھی تقریر و وعظ کی ابتدا اللہ تعالی کی حمد اور اس کے پیغمبروں پہ درود و سلام بھیج کر کی جائے۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں:

(اے پیغمبر! ) آپ کہہ دیجئے: " تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے! بتاؤ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو ان لوگوں نے اللہ کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے؟ بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو........

© Daily Urdu