TB Ki Mujarab Dawa
کلاسیکی اردو پڑھنے والا کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جو حضرت امیر مینائی کے نام نامی سے واقف نہ ہو، آپ ایک قادر الکلام شاعر اور ماہر لغت نویس تھے، 1928ء کو لکھنو میں پیدا ہوئے، علماء فرنگی محل سے تعلیم پائی، قابلیت شروع ہی سے نمایاں تھی، بادشاہوں نے قدر کی، پہلے نواب واجد علی شاہ نے بلا لیا، نواب کے لیے دو کتب بھی تحریر کیں، پھر رام پور تشریف لے گئے، چالیس سال سے زیادہ عرصہ وہاں گزارا، نواب یوسف علی خان اور نواب کلب علی خان خصوصی قدردانوں میں سے تھے، اس کے بعد نظام دکن کی فرمائش پر حیدرآباد تشریف لے آئے، لیکن اجل نے زیادہ مہلت نہ دی اور 1900ء میں بلاوا آگیا۔
میں بتا چکا کہ شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات تھے، "امیراللغات" زندہ و جاوید کارنامہ ہے اور بھی بہت کچھ لکھا، دیوان بھی کئی ہیں، آپ کی ایک غزل سارے زمانے میں مشہور ہوئی اور ہم نے کالج ہی کے زمانے میں پڑھ لی تھی:
اچھے عیسی ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے ہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے
تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے
دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بیتابی کو ہجر اچھا نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے
آگیا اس کا تصور تو پکارا یہ شوق دل میں جم جائے الہی یہ خیال اچھا ہے
آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے
برق اگر گرمی رفتار میں اچھی ہے امیر گرمی حسن میں وہ برق جمال اچھا ہے
لکھنا بھول گیا کہ امیر لکھنو کے روحانی بزرگ مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھے، اس لیے "مینائی" لکھتے تھے، شاہ مینا کا مزار آج بھی مرجع خلائق ہے۔
گزشتہ دنوں مجھے ایک بوسیدہ کتاب ملی، عنوان تھا "مکاتیب امیر مینائی"، صفحات بودے تھے، پڑھنے کو مشکل........
