Pathar Ke Zamane Se Ai Tak (9)
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (9)
مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام یابی میں ماسٹروں کے ڈنڈوں، چھتروں ا ور "مرغ بانی" کا بہت ہاتھ تھا، استاد کے ہاتھ میں ڈنڈا انگریز نے پکڑایا تھا، اس کے دو مقصد تھے، پہلا مقصد بچوں کے دل میں شروع دن سے حکومت یا سرکار کا خوف بٹھانا تھا، نمبر دار، استاد، ڈاکیا اور کانسٹیبل چاروں اس دور میں سرکار کی پہلی علامت ہوتے تھے، حکومت جان بوجھ کر ان عہدوں پر سخت مزاج اور تنومند لوگ تعینات کرتی تھی، یہ لوگ ظالم بھی ہوتے تھے چناں چہ ان کی وجہ سے عوام میں حکومت کا دبدبہ قائم ہو جاتا تھا اور لوگ آگے چل کر انگریز کے سامنے سر نہیں اٹھاتے تھے ورنہ چند ہزار انگریزوں کو کروڑوں ہندوستانی کاٹ کر کھا جاتے۔
دوسرا مقصد، کم زور، نالائق اور غیرسنجیدہ طالب علم استاد کی مار کی وجہ سے بچپن میں ہی سکول سے بھاگ جاتے تھے، گورے انہیں ٹریش (کچرا) کہتے تھے، سکولوں میں پیچھے ایسے طالب علم رہ جاتے جن میں برداشت اور زندگی کی مار سہنے کا حوصلہ ہوتا تھا، ان بچوں کے مزاج میں تسلسل، نظم وضبط اور ٹک کر بیٹھنے کا مادہ بھی ہوتا تھا اور یہ عادتیں زندگی میں کام یابی کے لیے اہم ہیں چناں چہ جو طالب علم استاد کی مار کے باوجود سکول میں ٹک جاتے تھے وہ آگے چل کر زندگی میں بہت ترقی کرتے تھے، 1990ء کی دہائی تک سی ایس ایس اور فوج میں کمیشن لینے والے نوے فیصد نوجوان اسی "کیٹگری"میں شامل ہوتے تھے، یہ کیوں کہ بچپن میں استاد کی مار اور بے عزتی سہہ چکے ہوتے تھے چناں چہ ان کے لیے آگے چل کر زندگی کے زیادہ تر امتحانات آسان ثابت ہوتے تھے۔
ہمارے زمانے میں کتاب اور تختی کے بعد سلیٹ تعلیم کا تیسرا بڑا سورس تھا، سلیٹ جستی لوہے کی چھوٹی سی چوکور پلیٹ ہوتی تھی جس پر مشین کے ذریعے کھردرا سیاہ پینٹ کر دیا جاتا تھا، ہم اس پر چاک اور کچے سنگ مرمر کے ٹکڑوں سے لکھتے تھے، سنگ مرمر کے چھوٹے ٹکڑے سلیٹی کہلاتے تھے اور یہ بھی کتابوں کی دکانوں سے ملتے تھے، ہم پوری ڈبی خرید لیتے تھے جس میں بیس باریک سلاخیں ہوتی تھیں، سلیٹ ریاضی کے لیے استعمال ہوتی تھی، اس پر لکھنا آسان تھا لیکن اسے صاف کرنا مشکل، ہم سب سلیٹ کو تھوک سے صاف کرتے تھے، سلیٹ پر تھوک کر اسے ہاتھ سے رگڑتے تھے یا پھر اس نیک کام کے لیے قمیض کا کف استعمال کیا کرتے تھے۔
سلیٹ کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں سے تھوک کی بو آتی رہتی تھی چناں چہ ہم جب گھر جاتے تھے تو ہماری مائیں سب سے پہلے ہمارے ہاتھ اور منہ دھلاتی تھیں، کھانے کو ہاتھ لگانے سے پہلے بھی ہاتھ دھونا ضروری تھا، ہماری عمر کے لوگ آج بھی ہاتھ دھوئے بغیر کھانا نہیں کھاتے، یہ بچپن کی ٹریننگ اور سلیٹ کی مہربانی تھی، ہم لوگ آج بھی اپنے ہاتھ سونگھتے رہتے ہیں، یہ بھی سلیٹ کی باقیات ہیں، ہماری زندگی میں چھٹی جماعت کے بعد انگریزی کاپی، رجسٹر اور گائیڈز آ گئیں، اس زمانے میں اردو، انگریزی اور میتھ (ریاضی) کے لیے الگ الگ کاپیاں ہوتی تھیں، انگریزی لکھنے کے لیے ایسی کاپی آتی تھی جس میں چار چار لائنیں ہوتی تھیں، یہ لائنیں بڑے اور چھوٹے حروف (کیپیٹل اور سمال) میں تمیز کے لیے ہوتی تھیں، مجھے پوری زندگی استادوں نے پنجابی میں انگریزی پڑھائی لہٰذا میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود اپنے پنجابی لہجے کو انگریزی نہیں بنا........
