Pathar Ke Zamane Se Ai Tak (15)
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (15)
ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے ہوتے تھے، ڈاک خانہ اہم ترین تھا، یہ چار کام کرتا تھا، خط و کتابت، کارگو، ٹیلی گرام اور بینک، ڈاک خانہ اس زمانے کا "ایزی پیسہ" تھا، لوگ اس کے ذریعے دوستوں اور خاندانوں کو رقمیں بھجواتے تھے، اسے "منی گرام" کہتے تھے، ہم ڈاک خانے میں رقم جمع کرا دیتے تھے اور ڈاکیہ دوسرے شہر میں اسے مطلوبہ شخص تک پہنچا دیتا تھا، ڈاکیہ اس رقم سے پانچ دس روپے بطور بخشیش بھی وصول کر لیتا تھا، سرکاری ملازمین کی پنشن ڈاک خانے کے ذریعے ملتی تھی لہٰذا ہر پہلی تاریخ کو ڈاک خانوں کے سامنے رش لگ جاتا تھا۔
ہمارے ڈاک خانے میں ایک بڑی سی میز پر "ٹیلی گرام" کی مشین لگی تھی، یہ ٹائپ رائیٹر قسم کی مشین تھی، لوگ اپنے قریبی ڈاک خانے میں جا کر اپنے رشتے داروں کو ٹیلی گرام بھجواتے تھے، اس کی قیمت "فی لفظ" کے حساب سے ہوتی تھی چناں چہ ٹیلی گرام کے پیغام بہت مختصر ہوتے تھے مثلاً "غفور از ڈائیڈ" اور "فضل از کمنگ" یا پھر "وائف ریچڈ" جوں ہی کسی شہر سے ٹیلی گرام آتا تھا تو پہلے ٹیلی گرام مشین میں حرکت پیدا ہوتی تھی، پھر گھنٹی بجتی تھی اور اس کے بعد پیغام ٹائپ ہونے لگتا تھا، پیغام کے نیچے بھیجے جانے والے شہر کا کوڈ ہوتا تھا، ٹیلی گرام کا پیغام اخباری کاغذ پر ٹائپ ہوتا تھا جس کا رول مشین پر لگا دیا جاتا تھا اور وہ ٹائپ ہونے کے ساتھ ساتھ رول ہوتا رہتا تھا، پیغام مکمل ہونے کے بعد بابو اسے مشین سے کھینچ کر کاٹ لیتا تھا اور پھر پڑھ کر متعلقہ حلقے کے ڈاکیے کے حوالے کر دیتا تھا، وہ پیغام فوری ڈیلیور کرنا ہوتا تھا چناں چہ ڈاکیہ سائیکل لے کر دوڑ پڑتا تھا۔
لوگ انگریز کے زمانے سے اسے "تار" کہتے تھے اور وہ عموماً بری خبر ہوتی تھی جوں ہی کسی گھر میں "تار" آتی تھی تو خواتین اٹھ کر سینہ کوبی اور بین شروع کر دیتی تھیں، ان کی آواز سن کر اڑوس پڑوس کی خواتین بھی "تار آئی، تار آئی" کی آوازیں لگاتی ہوئی سینہ کوبی میں شریک ہو جاتی تھیں، تار پڑھنے کی ذمہ داری بھی ڈاکیے کی ہوتی تھی، وہ اگر ضعیف ہوتا تھا اور اس دن اپنی عینک گھر بھول آتا تھا یا لفظ ٹھیک ٹائپ نہیں ہوتے تھے یا اسے پڑھنا نہیں آتا تھا تو صورت حال واقعی مزاحیہ ہو جاتی تھی۔
مجھے آج بھی یاد ہے، ہمارے گائوں میں ایک تار آئی، لائل پور (فیصل آباد) سے کسی نے اپنی والدہ کو سات بیٹیوں کے بعد بیٹے کی خوش خبری سنائی، پیغام "سیون سسٹرز برادر از بارن" تھا، اللہ جانتا ہے بارن ٹائپنگ کے دوران برن ہوگیا یا ڈاکیے نے اسے برن پڑھا تھا بہرحال ماں کو یہ پیغام ملا "سات بہنیں جل کر مر گئی ہیں" یہ پیغام سن کر دادی........
