Pathar Ke Zamane Se AI Tak (14)
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (14)
ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی، یہ آٹھ آنا گھنٹہ ہوتی تھی، میں نے کرائے پر سائیکل لے کر چلانا سیکھی، ان سائیکلوں پر کیریئر نہیں ہوتے تھے تاکہ کوئی بچہ پیچھے نہ بیٹھ سکے تاہم بڑے لڑکے اپنے کسی بھائی یا بہن کو سائیکل کے ڈنڈے پر بٹھا لیتے تھے، میرا قد اس وقت چھوٹا تھا، میں سیٹ پر بیٹھ کر سائیکل نہیں چلا سکتا تھا چناں چہ میں نے حسب روایت فریم کے اندر کھڑے ہو کر سائیکل چلانی سیکھی، ہم اسے اپنی زبان میں قینچی سائیکل کہتے تھے، فن کے اس مظاہرے کے دوران سائیکل سوار گدی (سیٹ) پر نہیں بیٹھتا تھا، وہ فریم کے اندر پیڈلز پر دونوں پائوں جما کر ہینڈل ہاتھ میں پکڑتا تھا اور سائیکل کے ساتھ لٹک کر اسے چلاتا جاتا تھا، ہم میں سے ننانوے فیصد بچوں نے اسی طریقے سے سائیکل چلانی سیکھی، میں جب قینچی سائیکل کا ایکسپرٹ ہوگیا تو چھوٹی سائیکلیں کرائے پر لے کر آدھا آدھا دن شہر میں گھومتا رہتا تھا۔
اس زمانے کا ایک واقعہ میں کبھی نہیں بھول سکا، میں گلی میں چھوٹی سائیکل چلا رہا تھا، وہ عموماً ڈھلان پر تیز ہو جاتی تھی، میں ڈھلوان اتر رہا تھا تو سائیکل تیز اور آئوٹ آف کنٹرول ہوگئی، سامنے گلی میں ایک موٹا تازہ شخص دھوتی اور بنیان میں ملبوس مسواک کر رہا تھا، میں نے شور مچا کر اسے دائیں بائیں ہونے کا اشارہ کیا لیکن وہ معاملے کی نزاکت نہیں سمجھ سکا اور میں سیدھا سائیکل سمیت اس کی ٹانگوں میں گھس گیا اور اس نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ٹانگیں کھول دیں جب کہ میں نے آنکھیں بند کر لیں، تھوڑی دیر بعد چیخوں کی آواز آئی، میں نے آنکھ کھولی تو وہاں عجیب منظر تھا، وہ موٹا دونوں ہاتھ ٹانگوں کے درمیان رکھ کر چیخ رہا تھا، مسواک اس کے پیروں میں پڑی تھی، منہ سے جھاگ نکل رہی تھی جب کہ اس کی دھوتی میری سائیکل کے ساتھ لپٹی ہوئی تھی اور گلی میں قہقہے گونج رہے تھے، اس دن میری شکایت ہوگئی اور والد نے میری ٹھیک ٹھاک ٹھکائی کی لیکن وہ مجھے مارتے ہوئے ہنستے بھی جا رہے تھے۔
ہم شام کے وقت کھانے سے پہلے گلی میں چھپن چھپائی اور باندر کلہ کھیلتے تھے، باندر کلے میں گلی کے درمیان کھونٹا ٹھونک کر اس کے ساتھ رسی باندھی جاتی تھی، تمام لڑکے اپنے جوتے کھونٹے کے گرد ڈھیر کردیتے تھے پھر ہم میں سے کوئی لڑکا باندر (بندر)........
