Pathar Ke Zamane Se Ai Tak (10)
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (10)
ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے تھے، یہ لیٹرین کہلاتے تھے جو لاطینی لفظ لاواٹرینا (Lavatrina)کی بگڑی ہوئی صورت تھی، لیٹرین میں ڈیڑھ سے دو فٹ اونچے اینٹوں کے چولہے بنے ہوتے تھے، لیٹرین کے باہر پانی کا لوہے کا پرانا اور بدصورت کولر اور سلور (المونیم) کا لوٹا ہوتا تھا، لوٹا مسلسل اذیت، ٹھڈے اور ذلالت برداشت کرکے پچک جاتا تھا، اسے پلید سمجھ کر دھویا نہیں جاتا تھا لہٰذا بعض اوقات اس میں کائی بھی جمی ہوتی تھی، امیر لوگ المونیم کی جگہ پیتل کا لوٹا استعمال کرتے تھے، مسجدوں میں مٹی کے لوٹے استعمال ہوتے تھے جنہیں ہم "کوزے" کہتے تھے۔
چھت پر اگر کولر نہیں ہوتا تھا تو ہر شخص بالٹی میں پانی بھر کر اوپر لے جاتا تھا یا پھر نیچے سے لوٹا بھر کر چھت پر جاتا تھا، لیٹرینوں کے دروازے عارضی، ڈھیلے اور بدصورت ہوتے تھے، بعض لوگ ان کے سامنے پردے بھی لٹکا دیتے تھے چناں چہ اندر بیٹھے شخص کو اپنی موجودگی کا اظہار کرنے کے لیے بار بار "کھنگورا" مارنا پڑتا تھا، صبح اور شام کے وقت تمام چھتوں پر بنیانوں میں ملبوس مرد ٹہلتے، مسواک کرتے یا سگریٹ پھونکتے نظر آتے تھے، یہ واش روم کی تیاری ہوتی تھی، ایک دو لوگوں کی آمدورفت کے بعد واش روم استعمال کے قابل نہیں رہتا تھا لہٰذا اس کے بعد کے لوگ ناک منہ لپیٹ کر اندر داخل ہوتے تھے، غلاظت کی وجہ سے ہر چھت سے بو آتی تھی اور لوگ اس پر جانے سے پرہیز کرتے تھے۔
خواتین رات کے وقت اندھیرے میں لیٹرین جاتی تھیں یا پھر فجر کے وقت مردوں کے اٹھنے سے پہلے۔ صفائی کے لیے شہروں میں ایک خاص طبقہ ہوتا تھا، یہ "چوہڑے" کہلاتے تھے، ان کے مرد اور عورت دونوں کام کرتے تھے، ان کے پاس غلاظت اٹھانے کے لیے ٹوکریاں ہوتی تھیں جب کہ بول و براز اکٹھا کرنے کے لیے لوہے کی پلیٹ اور فٹ سوا فٹ کا جھاڑو ہوتا تھا، ہم لوگ انہیں "جمعدار" کہتے ہیں، جمعدار بنیادی طور پر مغلوں کے زمانے کا سرکاری عہدہ تھا، یہ لوگ خزانے کا حساب رکھتے تھے یا ٹیکس جمع کرتے تھے اور دربار اور معاشرے میں عزت دار سمجھے جاتے تھے۔
"خان ساماں" بھی مغلوں کا عہدہ تھا، یہ شاہی جیولری اور خزانے کا کیئر ٹیکر ہوتا تھا اور "خان سامان" کہلاتا تھا جب کہ صوبے دار مغلوں کے زمانے کا گورنر ہوتا تھا، انگریز نے ہندوستان پر قبضے کے بعد بطور تذلیل سویپر کو جمعدار، خان سامان کو کک (خان........
