menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pakistan Ka Almiya (2)

60 0
16.07.2026

سکندر اعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ تر دنیا فتح کی، وہ یورپ، مڈل ایسٹ، انڈیا اور افریقہ کے ساحلی علاقوں کا مالک تھا، دنیا اس وقت بس اتنی ہی ہوتی تھی لیکن پھر اس کی سلطنت اس کی آنکھ بند ہوتے ہی ختم ہوئی، کیوں اور کیسے؟ یہ سوال پچھلے اڑھائی ہزار سال سے مورخین کو پریشان کر رہا ہے۔

آپ اس کے بعد بنو امیہ، بنو عباس، چنگیز خان، امیر تیمور اور نادر شاہ افشار کی سلطنتیں دیکھ لیں، وہ بھی زمین کے کونوں کو چھوتی تھیں لیکن وہ بھی مٹی کا ڈھیر ثابت ہوئیں، رومن ایمپائر تین براعظموں پر پھیلی تھی، سپینش بادشاہ چارلس پنجم (کارلوس اول) دنیا کا پہلا حکمران تھا جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، انڈونیشیا سے لے کر امریکا تک اس کی حکومت تھی، سورج سفر طے کرتا ہوا کیوبا، ہنڈورس، ہیٹی اور ارجنٹائن پہنچتا تھاتو انڈونیشیا، ملائیشیا اور انڈیا کے ساحلوں پر طلوع ہو جاتا تھا لیکن پھر یہ سلطنت بھی ختم ہوگئی۔

عثمانی خلافت آج کے 43 ملکوں تک پھیلی لیکن 1920ء میں یہ ٹوٹ کر صرف ترکی تک رہ گئی، ملکہ برطانیہ کا اقتدار آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے نیویارک تک پھیلا ہوا تھا لیکن 1950ء تک پہنچتے پہنچتے یہ بھی ختم ہوگیا اور ہماری زندگی کا سب سے بڑا المیہ سوویت یونین تھا، آپ اس کی حدود کا تعین بھی نہیں کر سکتے، وہ قطب جنوبی سے قطب شمالی تک پھیلا ہوا تھا، برصغیر کی طرف افغانستان اس کی حد تھی لیکن پھر 1990ء میں اچانک یہ بھی ختم ہوگیا اور دنیا میں 15 نئے ملک بن گئے۔

روس آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ سرحدیں رکھنے والا ملک ہے، اس کی سرحدیں 14 ملکوں سے ملتی ہیں، یہ ایک سائیڈ سے چین اور جاپان کا ہمسایہ ہے اور دوسری سائیڈ سے یورپ اور امریکا سے ملا ہوا ہے، اس میں 11 ٹائم زونز ہیں، روس میں آج بھی 9 گھنٹے طویل ڈومیسٹک فلائیٹ اڑتی ہے، یہ ماسکو سے پیٹروپائولوسک جاتی ہے، آپ اس سے سابق سوویت یونین کے والیم کا اندازہ کر لیجیے، دنیا کے اسی فیصد وسائل بھی سوویت یونین کے پاس تھے، آج بھی پینے کے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ روس میں ہے، پورا یورپ روسی پانی پیتا ہے اور ان کے چولہوں میں روسی گیس جلتی ہے لیکن وہ بھی ختم ہوگیا، کیسے اور کیوں؟

ہم اب وجوہات کی طرف آتے ہیں، یہ تمام ریاستیں معاشی بوجھ تلے دب کر ختم ہوئیں، ان کے اخراجات زیادہ اور آمدنی کم تھی چناں چہ یہ ٹوٹ کر بکھر........

© Daily Urdu