menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mazhbi Jang (4)

49 0
17.03.2026

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ کربلا کے بعد شروع ہوا اور یہ چیونٹی کی رفتار سے آہستہ آہستہ 21 ویں صدی میں داخل ہوگیا، کربلا کا یہودیوں کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اس کی طرف آنے سے پہلے ہمیں بنی اسرائیل، عیسائیت اور اسلام کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا۔

تورات اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں پر پہلی اور زبور دوسری کتاب تھی، ان دونوں کتابوں میں اللہ کے آخری نبی (مسیحا) کا ذکر ہے، بنی اسرائیل کی روایات میں بھی یہ موجود ہے اور حضرت دائودؑ اور حضرت سلیمانؑ کی تعلیمات میں بھی، حضرت عیسیٰؑ تشریف لائے تو عیسائیوں نے انہیں مسیحا قرار دے دیا لیکن یہودیوں نے انہیں ماننے سے انکار کر دیا یوں یہودیت اس نقطے پر رک گئی، حضرت عیسیٰؑ کو جب لوگوں نے مسیحا کہنا شروع کیا تو انہوں نے اس تاثر کی نفی کی اور فرمایا مسیحا میرے بعد آئے گا اور وہ آخری نبی ہوگا مگر عیسائیوں نے اس حکم کے باوجود حضرت عیسیٰؑ کو مسیحا، خدا کا بیٹا اور آخری نبی ڈکلیئر کر دیا چناں چہ یہ بھی یہاں رک گئے۔

نبی اکرمﷺ تشریف لائے اور نبوت اور مزید مذاہب کا سلسلہ ختم ہوگیا لیکن یہودیوں اور عیسائیوں دونوں نے اسلام اور رسول اللہ ﷺ کو ماننے سے انکار کر دیا جس کے بعد تین مذاہب نے الگ الگ بائونڈریز بنالیں تاہم ان بائونڈریز کے باوجود یہ تینوں ایک خدا، فرشتوں، کتاب اور روز آخرت پر متفق ہیں یوں یہ کم و بیش ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔

اسلام سے قبل بنی اسرائیل پر تین دین اور تین کتابیں نازل ہوئیں اور یہ حقیقت ہے ان تینوں مذاہب اور کتابوں کا مرکز یروشلم تھا جب کہ اسلام مکہ اور مدینہ میں آیا لہٰذا اسلام ابتداً اسی طرح عربی مذہب کہلایا جس طرح پچھلے تینوں مذاہب بنی اسرائیل کے مذہب کہلاتے تھے، حضرت عیسیٰؑ کے بعد سات سو سال تک یہودی اور عیسائی لڑ بھڑ کر ایڈجسٹ ہو گئے، حضرت علیؓ کے دور میں جنگ صفین ہوئی، اس کے بعد عالم اسلام دو حصوں میں تقسیم ہوگیا، حجاز کا علاقہ حضرت علیؓ کے پاس چلا گیا اور شام پر حضرت امیر معاویہؓ قابض ہو گئے۔

حضرت علیؓ اور حضرت امام حسنؓ کی شہادت کے بعد حجاز بھی اموی ریاست کا حصہ بن گیا صرف مکہ اور مدینہ رہ گئے، یروشلم حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں فتح ہوا تھا لیکن اسے فلسطین کا نام حضرت امیر معاویہؓ نے دیا تھا، یہ علاقہ اموی ریاست کا حصہ تھا، یزید کے زمانے میں کربلا کا واقعہ پیش آیا اور امویوں نے حضرت علیؓ کے خاندان کے تمام مرد شہید کر دیے صرف حضرت امام زین العابدینؓ بیماری کی وجہ سے محفوظ رہے، کربلا کے بعد پورا عرب امویوں کے پاس چلا گیا جس کے بعد دارالحکومت حجاز سے نکل کر دمشق میں آگیا، اموی خلفاء بہت طاقتور تھے لیکن وہ واقعہ کربلا کی وجہ سے مکہ اور مدینہ میں قدم رکھتے ہوئے ڈرتے تھے، وہ حج کے لیے بھی حجاز مقدس نہیں جاتے تھے۔

خلیفہ عبدالملک بن مروان پانچواں اموی خلیفہ تھا، وہ 685ء سے 705ء تقریباً 20 سال خلیفہ رہا، اس نے اپنے زمانے میں (نعوذباللہ) مکہ اور مدینہ کی اہمیت کم کرنے کے لیے قبلہ اول کی ایڈورٹائزنگ شروع کر دی، یہ درست ہے مسلمان ہجرت کے بعد 16 یا 17 ماہ یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے لیکن پھر دو ہجری میں ظہر کی نماز کے دوران سورۃ البقرہ کی آیات اتریں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنا رخ انور بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف پھیر لیا اور........

© Daily Urdu