Mazhbi Jang (3)
بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کرکے یہودیوں کا فرسٹ ٹمپل (ہیکل سلیمانی) گرا دیا اور یہودیوں کو گرفتار کرکے ایران (بابل) لے گیا، دوسرا بڑا حملہ رومیوں نے حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش سے 70 سال بعد کیا اور ان کا سیکنڈ ٹمپل گرا دیا، یہ ٹمپل یہودیوں نے سائرس اول (ہم مسلمان انہیں ذوالقرنین سمجھتے ہیں) کی اجازت اور مالی مدد سے بنایا تھا (سائرس کے یہودیوں کے ساتھ تعلقات کی وجوہات آگے آئیں گی) ان دونوں حملوں کے دوران یہودیوں کے چند خاندان بھاگ کر عرب علاقوں میں پناہ گزین ہو گئے، وہ علاقے آج کے لبنان، اردن، شام، سعودی عرب اور عراق میں واقع تھے، یہ خاندان بعدازاں مزراہی (Mizrahi) کہلانے لگے، نبی اکرم ﷺ کے دور میں مدینہ منورہ میں موجود یہودی مزراہی تھے، یہ عربی یہودی ہیں یوں یہودیوں کی تین نسلیں ہوگئیں۔
اشک نازی، یہ ایرانی النسل ہیں، ان کا پھیلائو سنٹرل ایشیا، روس اور ایسٹرن یورپ کی طرف تھا، یہ جنگجو اور ظالم ہونے کی وجہ سے مختلف اوقات میں روس اور جرمنی سے مار کھاتے رہے، ہٹلر نے بھی انہی کو مارا تھا اور آ ج اسرائیل پر بھی یہی لوگ قابض ہیں اور یہ کبھی غزہ اور کبھی ایران پر حملے کر رہے ہیں، آخر میں ان کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو ہٹلر یا روسیوں نے کیا تھا۔
دوسرے سفارادی (Sephardi) ہیں، یہ یروشلم سے سپین اور پرتگال کی طرف نکل گئے تھے، سپین کے مسلمان دور میں یہ مسلمانوں کے بہت قریب ہو گئے، یہ سکالر اور سائنس دان تھے، قرطبہ اور غرناطہ کے عروج میں ان کا بہت کردار تھا، 1492ء میں غرناطہ کے سقوط کے بعد یہ الجزائر، تیونس، مراکو اور استنبول چلے گئے، یہ پرامن اور پڑھے لکھے ہیں، فساد اور لڑائی مارکٹائی سے پرہیز کرتے ہیں اور تیسرے یہودی مزراہی ہیں، یہ عربی یہودی ہیں، علم اور تجارت ان کے دو شغل ہیں، یہودیوں کے زیادہ تر سکالرز مزراہی ہوتے ہیں یا سفارادی، یہ مسلمانوں کے بہت قریب رہے، یہ آج بھی ہیں، یہ اسرائیلی ریاست کے بھی خلاف ہیں، ان کا دعویٰ ہے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے نصیب میں ریاست نہیں لکھی تھی، ہم جب بھی ریاست بنانے کی کوشش کرتے ہیں ہمیں بری طرح مار پڑتی ہے لہٰذا ہمیں اسرائیل کے خبط سے نکل جانا چاہیے، یہ فلسطینی مسلمانوں کے حقوق کے بھی حامی ہیں، یہ ان کے لیے ہمیشہ احتجاج کرتے ہیں، یہ چہرے مہرے سے بھی عربی لگتے ہیں، حماس اور حزب اللہ کے مجاہدین جب کسی یہودی عمارت پر حملہ کرتے ہیں تو یہ سب سے پہلے اعلان کرتے ہیں عربی یہودی فوراً یہاں سے نکل جائیں، مزراہی اور سفارادی چپ چاپ نکل جاتے ہیں اور باقی لوگوں کو یہ قتل کر دیتے ہیں۔
آپ یہ جان کر حیران ہوں گے حضرت عیسیٰؑ بھی مزراہی یہودیوں میں سے تھے، آپؑ چہرے مہرے سے بھی عربی لگتے تھے، آپؑ کا رنگ زیتوتی، بال سیاہ اور آنکھیں بھوری تھیں جب کہ اشک نازیوں کی رنگت سفید اور بال سنہرے ہوتے ہیں........
