Mashhad Mein Do Din (5)
ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے، حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں ایران فتح ہوا تو ایرانی بادشاہ یزدگرد کی دو صاحب زادیاں گرفتار ہو کر مدینہ منورہ لائی گئیں، حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت علیؓ کی خواہش پر بڑی صاحب زادی شہربانو کا نکاح حضرت امام حسینؓ سے کر دیا جب کہ دوسری صاحب زادی گیہان بانو کو حضرت محمد بن ابی بکرؒ کے نکاح میں دے دیا گیا، حضرت محمد بن ابی بکرؒ کی والدہ حضرت اسماء بنت عمیسؓ حضرت علیؓ کے بڑے بھائی حضرت جعفر طیارؓ کی اہلیہ تھیں، جنگ موتہ میں ان کی شہادت کے بعد ان کا عقد حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ہوگیا، ان کے بطن سے محمد بن ابی بکرؒ پیدا ہوئے، یہ ابھی شیر خوار تھے کہ حضرت ابو بکرؓ کا وصال ہوگیا جس کے بعد حضرت اسمائؓ نے حضرت علیؓ سے نکاح کر لیا یوں محمد بن ابی بکرؒ نے حضرت علیؓ کے گھر میں پرورش پائی، یہ گیہان بی بی سے نکاح کے بعد حضرت امام حسینؓ کے ہم زلف بھی بن گئے۔
اہل تشیع کے چوتھے امام حضرت زین العابدینؒ بی بی شہر بانو کے بطن سے تھے جب کہ حضرت امام جعفر صادقؒ پر پہنچ کر بی بی شہربانو اور گیہان بی بی کا شجرہ ایک ہوگیا، امام رضاؒ اس شجرے کے آٹھویں امام ہیں اور یہ مشہد میں مدفون ہیں، اہل تشیع کے لیے خانہ کعبہ، روضہ رسولﷺ نجف اشرف اور کربلا کے بعد مشہد اہم ترین شہر ہے اور یہ زندگی میں کم از کم ایک بار امام رضاؒ کے مقبرے پر ضرور آتے ہیں۔
امام رضاؒ کا روضہ چھ لاکھ مربع میٹر پر مشتمل ہے، اس کے آٹھ دروازے، سات صحن اور 12 مینار ہیں اور اس میں 7 لاکھ لوگ بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں، روضہ مبارک کے بالکل ساتھ امیر تیمور کی بہو اور تیموری سلطنت کے دوسرے بادشاہ شاہ رخ کی بیگم گوہر شاد کی مسجد ہے، اس کے برآمدے روضے کی طرف کھلتے ہیں، گوہر شاد نے یہ مسجد بنوا کر تاریخ میں ہمیشہ کے لیے اپنا نام لکھوا دیا لہٰذا آج بھی جو زائر روضے پر حاضری دیتا ہے وہ مسجد گوہر شاد سے ہو کر آتا ہے اور زیارت کے ثواب کا ایک حصہ گوہر شاد کو چلا جاتا ہے۔ میں اور حسین باقری مسجد گوہر شاد سے ہوتے ہوئے روضہ کی عمارت میں داخل ہو ئے، وہاں بہت رش تھا لیکن اس کے باوجود دھکم پیل نہیں تھی۔
زائرین دعائیں بھی کر رہے تھے اور گریہ وزاری بھی، ہم بڑی مشکل سے جالیوں تک پہنچے، دعا میں شریک ہوئے اور دوسرے دروازے سے باہر آ گئے، حرم کی صفائی لاجواب تھی، ایران میں دیواروں اور چھتوں پر شیشے کے چھوٹے چھوٹے........
