menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Imran Khan Bhutto (2)

69 0
18.10.2026

عمران خان جیل ٹرائل کے دوران جج کو اردلی کہہ دیتے تھے، یہ منہ پر انہیں برا بھلا بھی کہتے تھے، جیل کے اندر یہ کرنل کا حوالہ بار بار دیتے رہے، عمران خان کی ملاقاتیں جب تک جاری رہیں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کو اس وقت تک ملک، فوج، عدلیہ اور فیلڈ مارشل کے خلاف مواد ملتا رہا، ملاقات کے بعد ہر بار جنرل عاصم منیر کو ذہنی مریض قرار دیا جاتا تھا اور خوف ناک انجام کی دھمکیاں دی جاتی تھیں لہٰذا اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ملاقاتیں بند کرنے پر مجبور ہوگئی، جج بھی ان کے خلاف ہو گئے، عمران خان کے اندر اگر ذوالفقار علی بھٹو نہ ہوتا تو کوئی نہ کوئی انہیں سمجھا لیتا، کوئی نہ کوئی ان کا ہاتھ اور زبان کنٹرول کر لیتا مگر یہ کرشماتی لیڈر ہیں لہٰذا کوئی ان کے سامنے دم نہیں مار سکا۔

آپ پارٹی میں سے کوئی شخص بتائیں جو انہیں مشورے دے سکتا ہو یا پھر انہیں اچھے یا برے کی تمیز سکھا سکتا ہو؟ کوئی نہیں ہے، یہ جب وزیراعظم تھے تو اس وقت بھی یہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتے تھے، یہ سعودی شاہ کو انگلی کے اشارے سے سمجھانا شروع کر دیتے تھے اور سعودی کرائون پرنس کے جہاز میں ان کے بارے میں وہ کچھ فرما دیتے تھے جس کے بعد ولی عہد کے حکم پر پائلٹ انہیں دوبارہ واشنگٹن اتار کر طیارہ خالی واپس لے جاتا تھا، عمران خان سعودی عرب کے محلات کی ٹاپ سیکرٹ گفتگو طیب اردگان اور مہاتیر محمد تک کو بتا دیتے تھے، یہ اس وقت "ون پیج" کے تگڑے وزیراعظم تھے۔

یہ آج عوام کے مقبول ترین لیڈر ہیں لہٰذا انہیں اس وقت کوئی روک سکا اور نہ آج روک سکے گا چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا اوور سائز ہونا اور مقبولیت ہے، یہ کسی کو بھی مشورے کے قابل نہیں سمجھتے، ان کے پاس جو بھی جاتا ہے ان کا گلوبل ویو، اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی داستانیں اور اللہ کی نصرت کی نشانیاں سن کر واپس آ جاتا ہے اور یوں ان کے مسائل میں اضافے پر اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔

میں یہاں میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی مثال دوں گا، آصف علی زرداری مختلف ادوار میں گیارہ سال جیل میں رہے، یہ جس بھی جیل میں گئے ان کے دوستوں میں بھی اضافہ ہوا اور جج اور اس زمانے کے فیصلہ ساز بھی ان کے گرویدہ ہوتے چلے گئے چناں چہ یہ جیل سے باہر بھی آئے اور دو بار صدر بھی بنے، میاں نواز شریف بھی گرفتار ہوئے اور جیل میں بھی رہے، اڈیالہ جیل میں ان کی طبیعت خراب ہوئی تو پی آئی ایم ایس کے ڈاکٹرز کی ایک ٹیم ان کے معائنے کے لیے گئی، اس میں دل کے امراض کا ایک پروفیسر بھی شامل تھا، وہ عمران خان کے پکے اور پرانے فین تھے، پی ٹی آئی کو فنڈ بھی دیتے تھے لیکن وہ صرف ایک ملاقات سے نواز شریف کے فین ہو گئے، ان کے بقول میں جب نواز شریف کے سیل میں گیا تو وہاں ایک چارپائی، پلاسٹک کا ایک ٹیبل اور ایک چیئر تھی، نواز شریف نے علالت میں بھی کھڑے ہو کر میرا استقبال کیا اور جب تک میرے لیے کرسی کا بندوبست نہیں ہوگیا وہ کھڑے رہے، معائنے........

© Daily Urdu