Glass Bridge Se
ہماری آخری منزل گلاس برج تھا، ہم نے یہ 20 جون کو دیکھنا تھا اور اسی رات میری شنگھائی کے لیے فلائیٹ تھی، چانگ چاچے کے مضافات میں مختلف ریزارٹ ہیں، ہمیں پہاڑیوں کے درمیان موجود ریزارٹ میں کمرے مل گئے، وہ کسی بڑے چینی بزنس مین کی پراپرٹی تھی، پہاڑوں کے دامن میں اس کی زمین تھی اور اس نے اس پر ریزارٹ بنا دیا، وہ جگہ بھی کمال تھی، درمیان سے دریا گزر رہا تھا اور جنگل کے مختلف حصوں میں ہٹس تھے جن تک آنے اور جانے کے لیے الیکٹرک گاڑیاں استعمال ہوتی تھیں، ہم نے اگر واپس نہ آنا ہوتا تو ہم لازماً دو تین دن اس میں گزارتے۔
چین کا مشہور گلاس برج اس سے دس کلو میٹر کے فاصلے پر تھا، یہ گریٹ وال کے بعد چین کی دوسری بڑی سیاحتی کشش ہے، ہم صبح گلاس برج کے مقام پر پہنچ گئے، چین کے دیگر سیاحتی مقامات کی طرح وہاں بھی وسیع پارکنگ تھی، میں نے محسوس کیا چین جہاں بھی کوئی سیاحتی یا کمرشل مقام بناتا ہے یہ وہاں تمام سہولتیں مستقبل کو ذہن میں رکھ کر تعمیر کرتا ہے، دنیا کے ہر بڑے سیاحتی مقام پر وقت کے ساتھ ساتھ رش بڑھتا رہتا ہے جس کے بعد پارکنگ کا ایشو بن جاتا ہے، چین سب سے پہلے یہ فیصلہ کرتا ہے پچاس سال بعد یہاں کیا صورت حال ہوگی اور اس کے بعد پارکنگ لاٹ اور کمرشل ایریاز کا لے آئوٹ تیار کرتا ہے۔
یورپ میں حکومتوں کو ہر دس سال بعد پورے پورے عمارتی بلاکس گرا کر انہیں پارکنگ لاٹ میں تبدیل کرنا پڑتا ہے جب کہ ہم سرے سے پارکنگ کو اہمیت ہی نہیں دیتے، آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ پتریاٹہ چیئر لفٹس کی پارکنگ دیکھ لیں، وہاں ہر وقت ٹریفک بلاک رہتی ہے، بہرحال گلاس برج کی پارکنگ بھی بہت وسیع و عریض تھی، اس کے بعد ایک پلیٹ فارم آیا وہاں سے گلاس برج کے ٹکٹ گھر کے لیے بسیں ملتی ہیں، پارکنگ سے ٹکٹ گھر دس منٹ کی بس ڈرائیو پر تھا، راستہ پہاڑی اور جنگلی تھا بالکل سوات کی طرح، ٹکٹ گھر کی عمارت گول اور وسیع وعریض تھی، ہم نے ٹکٹ لیا، کیمروں کو اپنی شکل دکھائی اور باہر نکل گئے۔
ٹکٹ گھر سے گلاس برج نظر نہیں آتا تھا، ہمیں تین چار منٹ سیڑھیاں چڑھنی پڑیں اور ہم اس کے بعد ایک اور ہال میں آ گئے، وہاں ہمیں جوتوں پر چڑھانے کے لیے کور دیے گئے، یہ شیشے کو خراشوں سے بچانے کے لیے تھے، ہم نے کور جوتوں پر چڑھائے اور مزید سیڑھیاں چڑھ کر باہر آ گئے اور پھر اچانک سامنے گلاس برج آ گیا، وہ منظر بھی دل کش تھا، دو بلند و بالا پہاڑ تھے جن کے نیچے دریا بہہ رہا تھا، ایک کونے میں سبز........
