Basant Ke Mamle Mein
یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے، میں اپنے بچوں کو سوئٹزرلینڈ لے گیا، ہم تھن لیک کے ساتھ کسی چھوٹے سے ٹائون میں رہ رہے تھے، ہمارا فلیٹ قصبے کی مین مارکیٹ میں تھا، نیچے دکانیں اور بازار تھا، اوپر ہم رہتے تھے، ریلوے سٹیشن، ریستوران اور کافی شاپس بہت قریب تھیں، ہم سارا دن پہاڑوں میں گھومتے رہتے تھے اور شام کے وقت واپس آ جاتے تھے۔
ایک رات ہماری گلی میں بہت شور شرابا تھا، نیچے کنسرٹ چل رہا تھا، نوجوان لڑکے لڑکیاں ناچ کود رہے تھے جب کہ سائیڈز پر عارضی سٹالز لگے تھے، یورپ میں عموماً شام کے بعد اس قسم کی ایکٹوٹیز نہیں ہوتیں لہٰذا میں نے کھڑکی سے جھانکنا شروع کر دیا، میرے دونوں بیٹے اس وقت تیرہ اور پندرہ سال کے تھے، یہ دونوں مجھ سے پہلے کھڑکی پر پہنچے ہوئے تھے، میں نے جھانک کر دیکھا تو پتا چلا آج ٹائون میں "بیئر فیسٹول" ہے، گائوں کے مضافات میں چھوٹی سی بیئر فیکٹری ہے، یہ سال میں دو بار ٹائون میں بیئر فیسٹول کرتی ہے۔
بازار میں کھانے پینے کے سٹال لگ جاتے ہیں، ڈی جے کا بندوبست ہو جاتا ہے، لائیٹس اور سائونڈ سسٹم بھی لگ جاتے ہیں، گائوں کے تمام نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے ہوتے ہیں، ساری رات ناچتے کودتے ہیں اور فری بیئر پیتے ہیں، یہ روایت پرانی تھی، گائوں کے لوگ صدیوں سے یہ فیسٹول مناتے چلے آ رہے ہیں، بیئر فیکٹری بعد میں لگی تھی، اس نے اس ایکٹویٹی کو "اون" کر لیا اور یوں یہ سلسلہ چلنے لگا۔
میں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کیا "تم فیسٹول میں جانا چاہتے ہو؟" میں جوانی میں سخت والد تھا، اس کی وجہ میرے والدین تھے، میں نے ان سے پیرنٹنگ سیکھی تھی لہٰذا میں بلاوجہ سخت گیر تھا، میرے بیٹے مجھ سے گھبراتے تھے، میں نے جب ان سے پوچھا تو انہوں نے گھبرا کر انکار میں سر ہلا دیا لیکن ان کی نظریں ان کے انکار سے اتفاق نہیں کر رہی تھیں، میں نے ہنس کر انہیں اجازت دے دی تاہم ان سے اتنا ضرور کہا "تم نے کوئی ڈرنک نہیں لینا" یہ دونوں بس میری ہاں کا انتظار کر رہے تھے، انہوں نے فوراً جوتے پہنے اور بھاگ کر گلی میں چلے گئے، یہ دو گھنٹے بعد واپس آئے تو بہت خوش تھے۔
مجھے پندرہ سال بعد میرے بیٹے نے کل یہ واقعہ یاد کرایا اور میرا شکریہ ادا کرکے کہا "آپ اگر اس رات ہمیں روک لیتے تو شاید ہمیں پوری زندگی یہ علم نہ ہوتا خوشی چھوٹے چھوٹے تہواروں میں ہوتی ہے اور دنیا کے ہر کونے میں لوگ چھوٹے چھوٹے تہواروں میں اسے تلاش کرتے ہیں، میرے بیٹے نے........
