menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Umeed Ki Shama Roshan Rakhen

24 0
10.03.2026

امید کی شمع روشن رکھیں

ایران اسرائیل جنگ سے چند ہفتے پہلے جب میں نے اپنے کالم میں "ٹیکنالوجی اور جذبہ" کے عنوان سے چند گزارشات پیش کی تھیں تو بنیادی سوال یہی تھا کہ آنے والے معرکوں میں فیصلہ کن عنصر کیا ہوگا؟ کیا جنگیں صرف مشینیں جیتیں گی یا پھر انسان کا حوصلہ، یقین اور جذبہ بھی اتنا ہی اہم رہے گا؟ وقت نے ثابت کردیا کہ یہ سوال محض ایک ادبی خیال نہیں تھا بلکہ آج اس جنگ کی اصل حقیقت اسی کے گرد گھومتی ہے۔ جدید دنیا میں جنگ کا چہرہ بدل چکا ہے۔ اب میدان میں صرف توپیں اور ٹینک نہیں اترتے بلکہ آسمانوں میں اڑتے ڈرون جہاز، سمندرمیں کھڑے بحری بیڑے، خلا میں گردش کرتے سیٹلائٹ اور کمپیوٹر اسکرینوں پر لڑی جانے والی سائبر جنگیں بھی اس معرکے کا حصہ بن چکی ہیں۔

ٹیکنالوجی نے جنگ کو بلاشبہ زیادہ تیز، زیادہ مہلک اور زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج جنگی اہداف بدل چکے ہیں۔ میں نے اپنے سابقہ کالم میں پانی پت کی لڑائی کی مثال دی تھی جب بابر نے ابراہیم لودھی کی طاقتور ترین فوج کو جذبے اور ٹیکنالوجی کے اشتراک سے شکست دے کر ہندوستان پر حکمرانی کا خواب پورا کیا تھا۔ میں نے لکھا تھا کہ اگر جذبہ اور ٹیکنالوجی مل جائیں اور مقصد سامنے ہو تو بڑی سے بڑی طاقت کے لیے ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بلا مقصد جنگیں عوامی ہی نہیں بلکہ عالمی حمایت سےبھی محروم رہتی ہیں۔

ایران اور امریکہ، اسرئیل جنگ آج اٹھویں روز میں داخل ہو چکی ہے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کی باعث تیسری عالمی جنگ کے خدشات اور خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں توانائی کا بحران پوری دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔ پوری دنیا کا ہر فرد پریشان ہے۔ انسانی تباہی و بربادی کے دلخراش مناظر دنیا کے لیے کسی خوفناک خواب کی طرح ہیں۔ دونوں فریق اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایک جانب........

© Daily Urdu