Uch Shareef Yaadon Ki Khushbu
"اوچ شریف" یادوں کی خوشبو
گذشتہ دنوں بڑے عرصے بعد برخوردار ساجد کے ولیمہ میں شرکت کے لیے اوچشریف جانے کا اتفاق ہوا تو ماضی کی خوشبو دل میں اتر آئی۔ برسوں بعد وہاں قدم رکھنے کا موقع ملا تو ایک عجیب سا سکون دل کو محسوس ہوا۔ یوں لگا جیسے سب کچھ وقت کی لپیٹ میں محفوظ یادوں سے زندگی میں پھر لوٹ آیا ہو۔ یہاں کا ہر گوشہ اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ یقیناََ کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف یاد دلاتے ہیں بلکہ دل کو دوبارہ جوان کر دیتے ہیں۔ اوچ شریف کے یہ لمحے یقیناََ انہی میں سے تھے۔ جہاں ہر پر قدم ماضی کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ بچھڑنے والوں کی یادیں یہیں بسی ہوئی دکھائی دیں پرانے دوستوں اور مہربانوں کی محبتیں ہر جانب بکھری دکھائی دیں۔ بےشک اولیا اللہ کی یہ دھرتی اپنی مخصوص خوشبو کی باعث اپنی انفرادیت قائم رکھے ہوئے ہے۔ یہاں پر مدفن اولیا اللہ کی ہی یہ فیض ہے کہ اوچشریف کی ترقی دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے اور یہاں کی رونقیں کبھی کم نہیں ہوتیں بلکہ دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
اوچ شریف! یہ صرف ایک جگہ نہیں، صرف تاریخی اور دینی مقامات کی سرزمین ہی کا نام نہیں بلکہ ایک خوشبو اور عقیدت کا نام ہے، ایک لمحہ ہے، ایک یاد ہے جو برسوں بعد بھی دل کے کونے میں چمکتی رہتی ہے۔ برسوں بعد جب میں وہاں واپس پہنچا، تو گلیوں کی ہر سنگ تراش، ہر کھڑکی اور وہ چھوٹے چھوٹے دروازے، سب کچھ اپنی خاموشی میں کہانیاں سنانے لگے۔ پرانی یادیں جیسے ہوا کے جھونکے کے ساتھ دل کی کھڑکیوں میں گھس آئیں۔ وہی پرانی عمارتیں وہی سڑکیں، چھوٹے چھوٹے بازار اور فرش، وہی دروازئے اور سب سے بڑھ کر وہی چہرئے کچھ پرانے، کچھ نئے، مگر سب میں وہی پیار اور احترام تھا جو وقت کی دھول میں بھی مدھم نہیں ہوا۔ ہنسی، چھوٹی چھوٹی باتیں اور کبھی کبھار چھپ چھپ کر کی جانے والی شرارتیں، یہ سب ایک بار پھر زندہ ہو اٹھیں۔
اوچ شریف نے یہ احساس دلایا کہ زندگی کی بھاگ دوڑ میں........
