Mazaq Ke Naam Par Zehar
کہتے ہیں کہ مزاح انسانی ضرورت اور خواہش ہوتی ہے اور ہر انسان کے اندر ایک چھوٹا بچہ چھپا ہوتا ہے جو خوش ہونا چاہتا ہے۔ اسی لیے ہمارے اکثر میڈیا پر ہر رات کوئی نہ کوئی مزاحیہ پروگرام ضرور ہوتا دکھائی دیتا ہے جو بچے بڑے اور بوڑھے سب بڑے شوق سے دیکھتے ہیں اور محضوظ بھی ہوتے ہیں۔ لیکن اکثر مذاق کے روپ میں تھیٹر اور اسٹیج جیسی جگت بازی کا مظاہرہ بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ ہمارے گھروں میں ٹی وی کی آواز جب بلند ہوتی ہے تو اکثر اس کے ساتھ قہقہوں کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔ بظاہر یہ خوشی کی علامت ہے مگر کبھی ہم نے یہ سوچا کہ یہ ہنسی کس معیار کی ہے؟ کیا یہ ہنسی شعور کو جلا دیتی ہے یا صرف لمحاتی شور پیدا کرتی ہے؟
سوشل میڈیا پر بھی ایسے ہی طنزیہ جملے اور جگت بازی کے مظاہرئے دیکھنے میں آتے رہتے ہیں جو رفتہ رفتہ ہمارا مزاج کا حصہ بھی بنتے جارہے ہیں۔ یہ وہ خاموش زہر ہے جو قطرہ قطرہ شامل ہوکر ہمارے وجود کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب یہ جگت بازی صرف میلوں ٹھیلوں اور شادی بیاہ کے موقع پر نظر آتی تھی پھر رفتہ رفتہ فلم، تھیٹر اور اسٹیج تک پہنچی اور اب ہمارئے مزاحیہ شوز کا بھی حصہ بنتی جارہی ہے۔ آج گلی محلوں میں بدلتا ہوا گفتگو کا طنزیہ لہجہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا یہ طرز گفتگو اب ہماری روزمرہ زندگی میں بھی داخل ہو چکا ہے؟ شاید موجودہ طنزیہ جملوں اور جگت بازی نے معیاری طنز اور مذاق کی جگہ لے لی ہے؟
مذاق کے نام پر اپنے اندر کا زہر اگلنے کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے معاشرئے کی ایک خاموش مگر خطرناک بیماری بنتا جارہا ہے۔ جو بات کبھی ہلکی مسکراہٹ کا سبب ہوتی تھی آج وہ دلوں میں دراڑیں ڈالنے لگی ہے۔ خوشی کے لیے کیا جانے والا مذاق جب کسی کا دل دکھا دئے تو وہ مذاق نہیں رہتا طنز بن جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں یہ رویہ اور بھی........
