menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Darakhton Ke Patton Se Thermocol Bartano Tak

27 0
02.03.2026

درختوں کے پتوں سے تھرما کول برتنوں تک

عبدالرحمان ندیم میرے میٹرک کے کلاس فیلو اور پرانے مگر ذرا مذہبی طبیعت اور کراچی مزاج کے حامل بڑے مخلص دوست ہیں۔ اکثر ان کی تحریر فیس بک پر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی رہتی ہے۔ میرے کالمز پر بھی بڑا کھل کر تنقیدی مگر تعمیری تجزیہ کرتے ہیں۔ گذشتہ روز ان کی ایک تحریر نظر سے گزری جو بہت خوبصورت تھی۔ فرماتے ہیں کہ آدمی جب پتے پر کھانا کھاتا تھا تو مہمان کو دیکھ کر وہ پتے کی طرح ہرا بھرا ہوجاتا تھا۔ بعد میں وہ جب مٹی کے برتن میں کھانا کھانے لگا تو رشتوں کو مٹی اور زمین سے جڑ کر رشتے نبھانے لگا۔ پھر جب پیتل اور تانبے کے برتن استعمال کرنے لگا تو رشتوں کو سال چھ مہینے میں چمکانے لگا لیکن جب برتن چینی اور کانچ کے استعمال کرنے لگا تو ہلکی سی چوٹ سے رشتہ بکھرنے لگا اور اب جب برتن تھرماکول پیپر کے استعمال ہونے لگے تو سارے رشتے تعلقات بھی اب یوز اینڈ تھرو یعنی (استعمال کرو اور پھینک دو)ہونے لگے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ ہماری ترقی کا سفر ہے یا معاشرتی زوال کی علامت ہے؟

مجھے ان کی تحریر پڑھ کر خیال آیا کہ واقعی آج کے دور میں رشتے بکھر رہے ہیں اور تعلق ٹوٹ رہے ہیں۔ پتوں سے تھرماکول پیپر تک کا یہ سفر واقعی ایک معاشرتی المیہ ہے۔ رشتوں اور تعلق کی یہ پرانی تاریخ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی ہے اور باہمی الفت کاسفر دوریوں اور نفرتوں کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔ مہمان کو دیکھ کر خوشی کی بجائے پریشانی کیوں؟ کسی غریب کو دیتے ہوئے سوال کیوں ہوتے ہیں؟ کسی ہوٹل کے بیرے کو ٹپ دیکر فخر کیوں محسوس ہوتا ہے؟ آج یہ سوال ہر فردکی سوچ بن گیا ہے کہ کیا اس کی وجہ رزق کی تنگی یا معاشی........

© Daily Urdu