Gilgit Baltistan Mein Bijli Ka Bohran
گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ یہاں کے برف پوش پہاڑ، بہتے دریا اور سال کے بیشتر حصے میں دستیاب دھوپ اس امر کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں کہ یہ علاقہ توانائی کے میدان میں خود کفیل ہو سکتا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ آج گلگت بلتستان شدید بجلی بحران کا شکار ہے اور لوڈشیڈنگ یہاں ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ مستقل اور سنگین صورت اختیار کر چکی ہے۔
سرکاری و غیر سرکاری اندازوں کے مطابق گلگت بلتستان میں بجلی کی مجموعی طلب اس وقت تقریباً 200 سے 250 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ دستیاب پیداوار 120 سے 130 میگاواٹ کے درمیان رہتی ہے۔ سردیوں کے موسم میں صورتحال مزید ابتر ہو جاتی ہے، کیونکہ پن بجلی گھروں میں پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث پیداوار گھٹ کر 90 میگاواٹ تک آ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت، سکردو اور دیگر اضلاع میں روزانہ 18 سے 22 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ معمول........
