menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Scope, Scale Aur Mubayana Gadhe Ke Bachay

25 0
25.10.2026

سکوپ، سکیل اور مبینہ گدھے کے بچے

فرق صرف انیس اور بیس کا ہو تو بندہ کہے چلو یہ نہیں وہ سہی، لیکن قوم کی بدبختی یہ ہے کہ مبینہ گدھے کے بچے ایک اور بیس، بلکہ ایک اور ہزار کا فرق بھی سمجھنے قابل نہیں۔

ٹوٹل دو تجاویز ہیں، یا چلیں ڈھائی کہہ لیں۔

ڈھائی ڈیمز سے دس تربیلوں جتنی "ڈرٹ چیپ" بجلی اور دس تربیلوں جتنی "ڈرٹ چیپ" سٹوریج کپیسٹی مل جائے گی۔ سیلابوں، ماحولیات اور معیشت کے مسائل راتوں رات ختم ہوجائیں گے، ملک منی چائنہ بن جائے گا، مزید کیا چاہئے؟

پہلے سٹوریج کی بات کرلیں۔ ملک کا ستر فیصد پانی دریائے سندھ میں بہتا ہے۔ مون سون میں اسکا نارمل بہاؤ باقی ہر دریا کے سیلاب سے ذیادہ ہوتا ہے۔ تین درجے کی سٹوریج کا اصول اپنائیں تو پورے بیسن میں بہترین واٹرمینیجمنٹ بچوں کا کھیل ہے۔ چناب، راوی ستلج پر ڈیمز ممکن نہیں، لیکن بیراجز سے ہفتوں والی سٹوریج ممکن ہے، جس سے سیلابوں اور بھارتی شرارتوں کا بروقت علاج ہوجائے گا۔ سنتے ہیں کہ پنجاب حکومت اس پر کام کررہی ہے۔

اگلا درجہ ہے مہینوں والی سٹوریج کا، سواں کی 19 سے 38 ملین ایکڑفٹ کی کپیسٹی چائنہ کے تھری گارجز سے بڑی ہے۔ جولائی سے ستمبر تک، تربیلا کے بہاؤ کو کاٹ کر یہاں جتنا پانی فالتو لگے سٹور کرلیں، اسی دوران چناب راوی ستلج کے بیراجز کی ہفتوں والی سٹوریجز قومی ضروریات کو سنبھالے رکھیں گی۔ سواں سٹوریج کا پانی باقی سال یعنی اکتوبر سے جون تک پورے سسٹم کو بلاتکلف چلاتا رہے گا۔ گدو کو ہر سیزن میں ڈیڑھ دو لاکھ کیوسک کا بہاؤ دینا ممکن ہوجائیگا۔

سب سے اعلی........

© Daily Urdu