Pani Hai?
سواں منصوبے کے بارے میں ایک سوال بہت تواتر سے پوچھا جاتا ہے اس میں پانی کہاں سے آئے گا۔ یہ سوال نیا نہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ اکثر پوچھتے وہی ہیں جنہیں دنیا کا کوئی جواب مطمئن نہیں کر سکتا۔ 2010 سے بڑا سیلاب کوئی نہیں اور چیئرمین واپڈا سے پڑھا لکھا انجینیئر کوئی نہیں ہوتا۔ 2010 کے سیلاب کے دنوں میں واپڈا کی اپنی دعوت پر پاکستان گیا تو سابق چیئرمین واپڈا راغب عباس شاہ صاحب سے بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ سواں کی سٹوریج کا ذکر ہوا تو چھوٹتے ہی بولے پانی تو ہے نہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت بھی سواں کی کپیسٹی سے زیادہ پانی سندھ میں کھڑا تھا اور کروڑوں لوگ دربدر تھے۔ میں انکا منہ تکتا رہا کہ کوئی ش؟ کوئی ح؟ جان تو گئے ہوں گے شاہ صاحب حیدرآباد سے تھے۔ خیر اگلی حکومت آئی تو شاہ صاحب بھاشا ڈیم کے خلاف سازشیں کرتے پکڑے گئے اور چیئرمینی سے باعزت برخاست ہوگئے۔ تو صاحبو آپ گھوڑے کو اٹھا کر دریا کے کنارے تو لاسکتے ہیں لیکن زبردستی پانی نہیں پلاسکتے۔
یہ بیانیہ کہ پانی نہیں ہے سفید جھوٹ ہے اور یہ جھوٹ تب تک بِکتا رہے گا جب تک آپ اسے سوچے سمجھے بغیر خریدتے رہیں گے۔ صورتحال سمجھنے کیلئے آپکو سواں سٹوریج کی افادیت اور استعمال کا پیٹرن تھوڑا سمجھنا پڑے گا۔ سواں اکیلے رول میں بھی بہت کارآمد ہے لیکن شیوک ڈیم کے ساتھ ملکر دنیا بھر کیلئے واٹر مینیجمنٹ کا شاہکار بنے گا۔
لداخ سے تقریباََ 20 ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے (شیوک اور انڈس میں)۔ فرض کریں بھارت لداخ........
