Pan Bijli Ki Muashiyat
1947 تک پورے پاکستان میں کُل 60 میگاواٹ کپیسٹی تھی، تقریباََ پاؤ ارب یونٹ سالانہ، جتنی آجکل ایک عام ونڈ فارم بناتا ہے۔ یہ مقدار انگریز آقاوں کی مقامی ضروریات کیلئے تھی جو اپنے وطن میں 65 سال سے اسکا استعمال کر رہے تھے۔ انہوں نے غلاموں کی عادتیں بگاڑنا مناسب نہیں سمجھا، اسلئے گھریلو اور صنعتی استعمال تقریباً صفر تھا۔
ایک عدد یاد رکھیں، پاکستان میں سالانہ 500 ارب یونٹ پن بجلی کا پوٹینشل ہے۔ یہ عدد موجودہ ملکی سپلائی سے تین گنا اور کھپت سے چار گنا ذیادہ ہے۔ (سپلائی اور کھپت میں لائن لاسز اور بجلی چوری کا فرق ہے)۔ ہائیڈل انرجی کو ناپنے اور استعمال کرنے پر تفصیلی مضامین انشااللہ جلد آئیں گے۔
آزادی کے بعد 30 سال میں تین ڈیم بنے۔ 1960 میں ورسک، 1968 میں منگلا اور 1977میں تربیلا۔ ڈیزائن، فنڈنگ اور تعمیر میں مغربی تعاون پر مکمل انحصار رہا۔ اس مدت میں آبادی ساڑھے تین کروڑ سے دگنی ہوکر سات کروڑ ہوگئی۔ ہم چاہتے تو اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے تھے لیکن نیت اہلیت........
