Latakte Glaciers
نیپال کے حالیہ فلڈ کی نئی تفصیلات آنے سے صورتحال ذیادہ واضح ہورہی ہے۔ پہاڑوں میں دریائی وادیوں کا نیٹ ورک کسی درخت کی شاخوں جیسا ہوتا ہے۔ جو شاخ جتنی موٹی ہوتی ہے، اسکی ڈھلان اتنی کم ہوتی ہے (بقدر بہاؤ)۔ گلیشیئر پتلی شاخوں کے سروں پر لٹکے ہوتے ہیں۔ لٹکنے کا لفظ اس لیے موزوں ہے کیونکہ پتلی شاخیں پہاڑوں کی چوٹیوں تک منسلک ہوتی ہیں۔ بلندی پرنئی برف گرتی ہے تو اسکا وزن ان گلیشیئرز کو مسلسل دھکیلتا ہے اسلئے یہ بہت سست رفتاری سے پوری وادی کو چھیلتے ہوئے نیچے کی جانب مسلسل سرکتے رہتے ہیں۔ بلندی پر سخت سردی انہیں منجمد رکھتی ہے جبکہ انکا نچلا سرا نسبتا گرم علاقے میں پہنچ کر پگھلنے لگتا اور اور وہاں سے ایک نالا رواں ہوجاتا ہے۔ دریائے سندھ جیسے دریا ایسے سینکڑوں لٹکتے گلیشئرز سے مل کر بنتے ہیں۔ نئی........
