26 January
26 جنوری، بھارت کے لیے جشن، فخر اور طاقت کے اظہار کا دن، مگر جموں و کشمیر کے لیے یہ دن کسی تہوار کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا زخم ہے جو ہر سال تازہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ دن کشمیریوں کے لیے خوشیوں کی نہیں، آہوں اور سسکیوں کی تاریخ ہے۔ یہ دن پرچموں اور پریڈز کا نہیں، بلکہ بندوقوں، بوٹوں اور خاموش قبروں کا دن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی وادی میں 26 جنوری یومِ سیاہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، ایک ایسا دن جو جمہوریت کے دعوؤں اور جبر کی حقیقت کے درمیان کھڑے سچ کو بے نقاب کرتا ہے۔
جب نئی دہلی میں آئین کی بالادستی کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں، تو کشمیر میں وہی آئین خوف، محاصرے اور پابندیوں کی صورت میں نظر آتا ہے۔ جب بھارت اپنی "سب سے بڑی جمہوریت" ہونے کا اعلان کرتا ہے، تو کشمیر میں وہی جمہوریت آہنی ناکوں، تلاشیوں، گرفتاریوں اور خاموشی کے سائے میں دم توڑتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ایک ہی دن، ایک ہی آئین، مگر دو بالکل متضاد حقیقتیں!
جموں و کشمیر کی تاریخ وعدوں، امیدوں اور پھر دھوکہ دہی کی طویل داستان ہے۔ 1947ء میں کشمیریوں سے کہا گیا تھا کہ ان کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں ہوگا۔ اقوامِ متحدہ کے فورم پر،........
