menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

14 August, Jashan Se Aage Ka Safar

33 0
11.08.2026

14 اگست، جشن سے آگے کا سفر

14 اگست آتا ہے تو پاکستان کے رنگ اور بھی گہرے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ بازاروں میں سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، گھروں کی چھتوں پر جھنڈے دکھائی دیتے ہیں، بچے سبز و سفید لباس میں نظر آتے ہیں اور ہر طرف "پاکستان زندہ باد" کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ بلاشبہ یہ خوشی کا دن ہے، مگر کیا 14 اگست صرف خوشی منانے کا دن ہے؟ شاید نہیں۔ یہ دن ہمیں رک کر اپنے ماضی کو دیکھنے، اپنے حال کا جائزہ لینے اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔

14 اگست 1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے نمودار ہوا۔ یہ ایک ایسا خواب تھا جس کی تعبیر کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے طویل سیاسی جدوجہد کی۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کو ایک سیاسی قوت میں تبدیل کیا اور ایک الگ وطن کے مطالبے کو دنیا کے سامنے ایک واضح سیاسی حقیقت بنا دیا۔

لیکن پاکستان کا قیام صرف قائداعظم کی سیاسی بصیرت کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کے پیچھے لاکھوں عام لوگوں کی قربانیاں بھی تھیں۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنے آبائی گھر چھوڑے، اپنی زمینیں چھوڑیں، اپنے کاروبار چھوڑے اور ایک ایسے سفر پر نکل پڑے جس کا انجام انہیں معلوم نہیں تھا۔ کتنے ہی قافلے منزل تک نہ پہنچ سکے۔ کتنے خاندان بچھڑ گئے اور کتنے ہی لوگوں نے اپنے پیاروں کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا۔

یہی وجہ ہے کہ جب ہم 14 اگست کو سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس پرچم کے رنگ صرف خوشی کی علامت نہیں، قربانیوں کی ایک پوری داستان بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔

پاکستان بن گیا، مگر پاکستان بنانے کا کام ختم نہیں ہوا۔ یہ بات شاید ہمیں سب سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں، کردار سے بنتی ہیں۔ ریاست صرف عمارتوں، سڑکوں اور پلوں کا نام نہیں، بلکہ........

© Daily Urdu