Yemeni Jang Aur Taqat Ka Badalta Tawazun
یمنی جنگ اور طاقت کا بدلتا توازن
مشرقِ وسطیٰ ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں یمن کی جنگ محض ایک ملک کی خانہ جنگی نہیں رہی بلکہ اِس کے اثرات سعودی عرب کی سلامتی، خلیجی ممالک کے باہمی تعلقات، عالمی تجارت اور بڑی طاقتوں کی حکمتِ عملی تک وسیع ہوچکے ہیں۔ سعودیہ پر بڑھتے حملوں اور ریاض کی جوابی کاروائیوں نے تنازعے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے اِس کشمکش میں پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی تعاون، ایرانی کردار، متحدہ عرب امارات کے مفادات اور امریکی صدر ٹرمپ کے ممکنہ کردار کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اِس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دس اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الا قوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے جبکہ گیارہ اکتوبر کو ہوائی اڈے کے ایک اور حصے کو نشانہ بنایا گیا۔ اِن واقعات نے فضائی سفر، توانائی کی تنصیبات اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھائے ہیں تاہم فضائی کمپنیوں کے وسیع پیمانے پر آپریشن معطل کرنے یا مستقل طور پر سعودی فضائی حدود سے گریز بارے ابھی کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا البتہ خطے میں کسی حدتک خوف کی فضا بن رہی ہے۔
حوثی حملوں کا مقصد بظاہر سعودی عرب کو صرف فوجی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی دباؤ بھی بڑھانا ہے۔ ہوائی اڈے، تیل تنصیبات اور اہم تجارتی راستے معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اِن مقامات پر حملوں کا خطرہ مستقل فضائی بیمہ کو مہنگا کرسکتا ہے، پروازوں کے راستے تبدیل کرنا پڑسکتے ہیں، نیز سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے لیے یہ صورتحال اِس لیے اہم ہے کہ وہ سیاحت، تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے زریعے اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے کی تگ و دو میں ہے۔
سعودی عرب نے حوثی حملوں کے جواب میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمات میں فضائی کاروائیاں کی ہیں، پانچ اکتوبر سے شروع ہونے والی نئی........
