Shar Se Kair Ka Janam
آٹھ جنگیں بند کرانے کے عوض نوبل انعام کے طلبگار صدر ٹرمپ کو نیک نامی تو حاصل نہیں ہوئی البتہ وینزویلا کے منتخب صدر نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت اغوا کرانے کا چرچا خوب ہوگیا ہے۔ ایران پر حملے اور گرین لینڈ پر بزور قبضے کی دھمکیوں پر بھی دنیا حیران ہے کہ جنگیں بند کرانے کا دعویدار اچانک بدمعاشی پر کیوں اُتر آیا ہے؟
اِس کی وجہ قرضوں میں جکڑی دم توڑتی معیشت اور چینی عروج ہے۔ ممکن ہے ٹرمپ کی حکمتِ عملی سے امریکہ کو کچھ مالی فائدہ ہوجائے مگر بدمعاشی سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے نقصانات زیادہ ہوں گے۔ بدمعاشی سے عرب اور یورپی ممالک دور ہوجائیں گے اور لاطینی امریکہ کے ممالک بھی اپنے دفاع کو مضبوط بناکر خطے میں ترقی کے عمل کی رفتار سُست کر سکتے ہیں۔ کینیڈا سے تعلقات متاثر ہونے کا بھی نقصان ہوگا اور دنیا کو یک قطبی سے کثیر قطبی راستے کی طرف چلنے کی تحریک ملے گی۔ امریکی بدمعاشی پہلے ہی چین کی مضبوط معیشت اور روس کی دفاعی طاقت کو یکجا کرچکی ہے۔
مزید دیرینہ حلیف ممالک کی دوری سے امریکی معیشت اور دفاعی صنعت کو ایسا دھچکالگے گا جس کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا ملکی معیشت کو جواز بناکر متعدد عالمی منصوبوں سے علیحدگی ٹرمپ کی ایک اور ایسی حماقت ہے جس سے تجارت کا رُخ بدلنے سے ڈالر مزید کمزور ہوسکتا ہے۔ یہ تو غیر مُبہم حقیقت ہے کہ دنیا کی اب ترجیح امریکی و مغربی ممالک کی مہنگی دفاعی مصنوعات سے زیادہ ایشیا کے ایسے لڑاکا طیارے اور ہتھیار ہیں جونہ صرف کم لاگت ہیں بلکہ آزمودہ بھی ہیں۔ یہ طاقت کے توازن میں تبدیلی کے آثار ہیں جن سے امریکی بدمعاشی کا خطرہ معدوم ہوسکتا ہے۔
حالیہ امریکی کردار سے........
